ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

زندگی ٹرسٹ کو دئیے گئے سرکاری اسکول میں موسیقی کی اجازت دینے کا انکشاف، خاموشی سے کیا کام شروع کر دیا گیا؟

datetime 18  جولائی  2019 |

کراچی (آن لائن)جماعت اسلامی سندھ کے شعبہ تعلیم کے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق منصوری نے زندگی ٹرسٹ کو دئیے گئے سرکاری اسکول میں موسیقی کی اجازت کے انکشاف اور گورنمنٹ گرلز اسکول ایس ایم بی فاطمہ جناح میں میوزک کلاسز کیلئے خاموشی سے عمارت کا ایک حصہ مختص کرنے

والی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسلام، نظریہ پاکستان اور دستور کے خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے آج ایک بیان میں کہا کہ ریاست مدینہ طرز حکومت کے دعویداروں کے دور میں سرکاری اسکولوں میں ناچ گانے، رقص کی کلاسز نہ صرف حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ بلکہ یہ اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ حکومت عالمی سامراج کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے مادر پدر آزادی اور روشن خیالی کے نام پرنوجوان نسل کا مستقبل تباہ اور ملک کی نظریاتی سرحدوں کو کھوکھلا کرنے پر تلی ہوئی ہے۔وہ اس کی آڑ میں مغرب کی طرح ہماراخاندانی نظام بھی تباہ وبرباد کرنا چاہتے ہیں جہاں پرماں بیٹی بہن کے مقدس رشتوں کی تمیزواحترام نہیں ہے۔آج ہمارے معاشرے میں نوجوانوں میں بڑہتی ہوئی بے راہ روی اورمعصوم بچیوں کے ساتھ بڑہتے ہوئے جنسی واقعات اسی کا شاخسانہ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ زندگی ٹرسٹ کو دیئے گئے سرکاری اسکولز میں میوزک کلاسز کا نوٹس لیا جائے۔ پاکستان کے دستور میں واضح طور پر درج ہے کہ یہاں پر کوئی بھی کام قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…