جمعرات‬‮ ، 05 مارچ‬‮ 2026 

راول ڈیم ساتویں مرتبہ آبی دہشت گردگی کا شکار،کروڑوں کی مچھلیاں ہلاک، شہری زندگی کو بھی خطرات

datetime 11  جولائی  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)ضلعی انتظامیہ اسلام آباد اور وفاقی پولیس کے دو تھانوں سیکرٹریٹ اور بنی گالہ کی مبینہ نااہلی اور مال کماؤ پالیسی کی وجہ سے راول ڈیم ساتویں مرتبہ آبی دہشت گردگی کا شکار ہو گیا،مافیا نے مچھلیاں پکڑنے اور ٹھیکہ نہ ملنے پر ڈیم میں زہریلا کیمیکل پھینک دیا جسکی وجہ سے کروڑوں روپے کی مچھلیاں مر گئی جبکہ زہریلے کیمیکل اور مردہ مچھلیوں کی وجہ سے راول ڈیم کا پانی بھی زہر آلود ہو چکا ہے جسکی وجہ سے راولپنڈی کے شہریوں کی

زندگی کو بھی خطرات لا حق ہو گئے،لاکھوں شہریوں کی زندگی داؤ پر لگانے کے باوجود بھی ضلعی انتظامیہ اور وفاقی پولیس بے حسی کا شکار بنی ہوئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ چند سالوں سے ہر تین ماہ بعد مچھلی مافیا راول دیم میں مچھلیاں پکڑنے کا ٹھیکہ نہ ملنے کی وجہ سے ڈیم میں زہریلا کیمیکل پھینک دیتے ہیں جسکی وجہ سے ساری مچھلیاں مر جاتی ہیں۔زہریلا کیمیکل اور مچھلیاں کے مرنے کی وجہ سے پانی زہریلا ہو جاتا ہے جسکی وجہ سے جرواں شہروں کے شہری خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔یاد رہے کہ راول ڈیم میں زہریلا کیمیکل پھینک کر مچھلیاں مارنے پر تھانہ سیکرٹریٹ اور تھانہ بنی گالہ میں مقدمات بھی درج ہیں اور متعدد مقدمات میں ملزمان اشتہاری بھی ہیں جبکہ ٹھیکیداروں کے مابین مچھلیاں پکڑنے کی وجہ سے متعدد بار فائرنگ بھی ہو چکی جسکا مقدمہ بھی تھانہ سیکرٹریٹ میں درج ہے۔سیکرٹریٹ پولیس نے گزشتہ سال پانی کا فرانزک ٹیسٹ بھی کروایا تھا جس میں بھی پانی کے مضر صحت ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی اور مچھلیوں کو بھی زہر کے ذریعے مارنے کی تصدیق ہوئی تھی تاہم اسکے باوجود آج تک وفاقی پولیس زہریلا مواد پھینک کر پانی زہریلا کرنے والے ملزمان کو گرفتار نہیں کر سکی وفاقی پولیس پولیس کی مبینہ ساز باز کا منہ بالتا ثبوت ہے۔ذرائع نے انکشاف کیا کہ راول ڈیم سے مچھلیوں کا ٹھیکہ لینے والا ٹھیکدار بھی

سیکرٹریٹ اور بنی گالہ پولیس کو ماہانہ بھتہ دیتا ہے۔ڈیم کے چاروں اطراف لوہے کا بنایا گیا حفاظتی حصار ڈیم کی تعمیر کے وقت کروڑوں روپے سے تعمیر کیاگیا تھا جبکہ لوکل مافیا نے اکھاڑ کر اونے پونے داموں فروخت کر دیا جبکہ حصار کی حفاظت کی زمہ داری سمال ڈیم نے کرنا تھی جبکہ فشری ڈپارٹمنٹ جس کا کام ڈیم میں پانی کی حفاظت کرنا تھی جو فشری اہلکار پانی کی حفاظت کی بجائے لوکل مافیہ سے ملی بھگت کر کے شہریوں اورمچھلیوں کی زندگی کے دشمن بن گئے جس کی وجہ سے آئے روز پانی میں زہر ملایا جانا معمول بن چکاہے اور شہری اس پانی کی وجہ خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں تاہم دونوں شہروں کی انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی جو ایک افسوسناک بات ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…