بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ریکروٹمنٹ کمپنیاں غیر ملکی گھریلو ملازموں کو ایئر پورٹ سے انکی منزل مقصود پر لے جانے کی پابند ،سعودی حکومت کی جانب سے اہم ہدایت جاری ،اطلاق یکم جولائی سے ہوگا

datetime 29  جون‬‮  2019 |

ریاض(اے این این )سعودی وزرات محنت و سماجی بہبود کی جانب سے تمام ریکروٹمنٹ آفسز اور کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ دیگر ممالک سے بھرتی کی جانے والی گھریلو ملازموں اور ملازمائوں کو ایئرپورٹ پر لینے ضرور جائیں گے۔ ا س معاملے میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی برتنے پر ریکروٹمنٹ کمپنی کے مالکان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

اس سے قبل جس سعودی گھرانے کے لیے گھریلو ملازم/ ملازمہ کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں، اس گھرانے کے کسی فرد کی یہ ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ ایئر پورٹ پر جا کر غیر ملکی گھریلو ملازم/ ملازمہ کو ریسیو کرنے کے بعد اسے رہائش گاہ پر لے جائے۔ تاہم اب یہ ذمہ داری ریکروٹمنٹ کمپنیوں کو سونپی گئی ہے۔ عربی اخبار الوطن کی رپورٹ کے مطابق گھریلو ملازمین /ملازمائوں سے متعلق یہ اہم پابندی یکم جولائی 2019 سے نافذ العمل ہو گی۔اس کا پہلے پہل اطلاق شاہ خالد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر ہو گا ،پھر بعد میں اس پابندی کا دائرہ مملکت میں واقع دیگر ایئر پورٹس تک بھی بڑھایا جائے گا۔ وزارت کی جانب سے ریکروٹمنٹ کمپنیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ مملکت میں لائی جانے والے تمام گھریلو ملازمین اور ملازمائوں کے تفصیلی کوائف، ان کے رابطہ نمبر اور ان کے مالکان کے متعلق بھی معلومات فراہم کرنے کی پابند ہوں گی۔ریکروٹمنٹ کمپنیوں پر لازمی ہو گا کہ وہ کسی بھی گھریلو ملازم/ ملازمہ کی مملکت میں آمد سے 24 گھنٹے پہلے اس کے آجر کو اس بارے میں آگاہ کرے گا۔ ریکروٹمنٹ کمپنیوں کی یہ ذمہ داری ہو گی کہ وہ غیر ملکی گھریلو ملازمین کو ایئرپورٹ پر لینے جائیں اور اگر ان کو ایئرپورٹ سے دور واقع کسی شہر میں مقیم آجر کے پاس پہنچانا ہے تو ایسی صورت میں کمپنی کے کسی ملازم کا ان کے ساتھ سفر کرنا لازمی ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…