منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عوام پر گیس بم گرانے کی تیاریاں ! قیمتوں میں کتنے فیصد اضافہ کیا جائے گا ؟ اطلاق کب سے ہو گا ؟اعلان کر دیا گیا

datetime 15  اپریل‬‮  2019 |

لاہور ( این این آئی) آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا ) کی چیئرپرسن عظمیٰ عادل نے گیس کی قیمتوں میں 80 فیصد تک اضافے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوئی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے،دو سال سے گیس کی قیمتیں نہیں بڑھ سکیں،قیمت خرید اور فروخت میں فرق بڑھ گیا ہے،ایس این جی پی ایل کے دیوالیہ ہونے کا امکان نہیں ہے،

سردیوں میں اوور بلنگ کی وجہ چوتھا سلیب ریٹ اور پریشر فیکٹر تھا تاہم ذمہ داروں کا تعین وزیراعظم کی کمیٹی کرے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور کے مقامی ہوٹل میں سوئی گیس کی قیمتوں کے حوالے سے سماع کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔چیئرپرسن اوگرا عظمیٰ عادل نے کہا کہ سوئی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے، گیس کی قیمت خرید میں اضافہ ہوا ہے جب کہ 2سال سے گیس کی قیمتیں نہیں بڑھ سکیں جس کی وجہ سے قیمت خرید اور فروخت میں فرق بڑھ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 723 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو گیس کی قیمت میں اضافہ مانگا گیا ہے جس کے باعث 75سے 80فیصد اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سوئی نادرن کے غیر ضروری اخراجات کو نہیں مانا جائے گا، ڈالر کی قیمت بڑھنا بھی ایک فیکٹر ہے۔چیئرپرسن اوگرا نے کہا کہ ایس این جی پی ایل کے دیوالیہ ہونے کا امکان نہیں ہے، حکومت ایسی کمپنیوں کو دیوالیہ نہیں ہونے دیتی، سردیوں میں اوور بلنگ کی وجہ چوتھا سلیب ریٹ اور پریشر فیکٹر تھا ،کسی کو معائدے سے ہٹ کر پریشر لگا ہے تو اسے ریفنڈ ملے گاتاہم اوور بلنگ کے ذمہ داروں کا تعین وزیراعظم کی کمیٹی کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…