ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

یوٹیلیٹی سٹورز کوئٹہ میں 45 کروڑ کا ڈاکہ، افسران لوٹ مار کرکے رفو چکر ہوگئے، دستاویزات میں انتہائی افسوسناک انکشاف

datetime 3  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد ( آن لائن ) یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے کوئٹہ آفس میں 45 کروڑ روپے کا فراڈ ہوا ہے جس کے ملزمان تاحال نہ گرفتار ہوئے ہیں اور نہ لوٹی ہوئی دولت واپس لی گئی ہے بلکہ افسران نے کرپٹ ساتھیوں کے خلاف کروڑوں کی چوری فراڈ اور کرپشن کے متعلق فائلیں بھی بند کردی ہیں ذرائع سے ملنے والی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے ریجنل آفس کوئٹہ کے کرپٹ افسران کی گینگ نے 32 کروڑ روپے کا فراڈ کیا ہے۔ متعلقہ افسران پر

مشتمل چوروں نے یوٹیلٹی سٹورز پر فروخت ہونے والی مختلف اشیاء کا کیش بینک میں جمع کرانے کی بجائے مزید32 کروڑ روپے سے زائد لے کر رفو چکر ہوگئے تھے یہ چوری گزشتہ دور حکومت میں کی گئی جب یوٹیلیٹی سٹورز کے وفاقی وزیر مرتضیٰ جتوئی تھے جن کا ادارہ پر کنٹرول نہ ہونے کے برابر تھا۔ دستاویزات میں پتہ چلا ہے کہ یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کوئٹہ کے افسران نے گھوسٹ ملازمین کی مبینہ تعیناتیاں کیں تھیں اور سالانہ ایک کروڑ 78 لاکھ روپے تنخواہوں کی مد میں اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کراتے تھے ان افسران کی نشاندہی بھی ہوگئی ہے لیکن کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ ریجنل آفس کوئٹہ کے سربراہ نے چھ لاکھ روپے کی کیش میں فراڈ کیا تھا اس سکینڈل کی فائل یوٹیلیٹی سٹورز کے سربراہ نے اپنے آفس میں چھپا رکھی تھی جس وجہ سے ایکشن نہیں ہوسکا جبکہ سٹورز میں پڑی ایک کروڑ پندرہ لاکھ روپے سے زائد کی اسیاء پڑی پڑی خراب ہوگئی ہیں ذمہ دار افسران کو معاف کردیا گیا ہے ۔ خراب ہوین والی اسیاء میں گھی ‘ آئل ‘ برانڈد اشیاء وغیرہ شامل تھیں۔ رینل آفس کوئٹہ کے افسران نے یوٹیلٹی سٹورز میں ڈکیتی کا واقعہ ہونے کے باوجود 75 لاکھ روپے کا کلیم انشورنس کمپنی سے دائر بھی نہیں کیا اور

خفیہ طریقہ سے انشورنس کمپنی کو فائدہ دیا گیا ہے ۔ ستوروں پر کام کرنے والے عملہ نے چھ کروڑ روپے کی اشیاء کی چوری کی ہے جس کی ریکوری تاحال نہیں ہوسکی جبکہ زائد ملازمین بھرتی کرکے ادارہ کو سالانہ ڈیڑھ کروڑ روپے کا نقصان دیا گیا ہے اس حوالے سے وزارت صنعت و پیداوار نے قومی چوروں کا ساتھ دیا ہے اور قومی دولت لوٹنے والوں کو آزاد کر رکھا ہے 45 کروڑ کی چوری کرنے والے افسران اب بھی بڑے عہدوں پر فائز ہیں کیونکہ ان افسران کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…