پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

بھارت میں جائیداد کی خاطر بیٹی نے بوائے فرینڈ کے ساتھ ملکر والدین کو قتل کردیا

datetime 12  مارچ‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی دارالحکومت دہلی کے مغربی وہار علاقے میں بیٹی نے اپنے دوست کی مدد سے والدین کو قتل کرکے انکی لاش سوٹ کیس میں ڈال کر نہر میں پھینک دی لیکن ڈرین میں سوٹ کیس پھنس جانے کے باعث قتل کی واردات کا پردہ فاش ہوگیا۔پولیس نے بیٹی اور اس کے دوست کو گرفتار کرلیا۔بھارتی ٹی وی کے مطابق ڈی سی پی سیجو پی کروویلا نے میڈیا کو بتایاکہ جاگیر کور

اور ان کے شوہر گرمیت کورنیلوٹھی کالونی میں رہائش پذیر تھے۔ ان کی 26سالہ بیٹی دیویندر کور عرف سونیا شادی شدہ اور 2بچوں کی ماں ہے۔ شوہر سے جھگڑے کے بعدسونیاگزشتہ ایک سال سے شوہر اور بچوں کو چھوڑ کر لکھنو کے گومتی نگر میں وکرم عرف پرنس دکشت کے ساتھ رہنے لگی۔ودیویندرکور کی نظر والدین کی جائداد پرتھی جسے وہ اپنے نام کرانا چاہتی تھی لیکن ماں باپ راضی نہیں تھے جس سے ناراض ہوکردیویندر کور نے 21فروری کووالد گرمیت کور اور خواب آور دواچائے میں ملاکر پلا دی بعدازاں اپنے بوائے فرینڈ کی مدد سے گلا دبا کر ہلاک کردیااور لاش سوٹ کیس میں بھر کر نہر میں پھینک دیا۔2مارچ کو جب والدہ جالندھر سے واپس آئی تو انہیں بھی نیند کی دوا پلاکر قتل کردیا اور لاش نہر میں پھینک دی۔8مارچ کو پولیس کواطلاع ملی کہ ناگ لوئی کے قریب ڈرین میں ایک سوٹ کیس پھنسا ہوا ہے۔موقع پر پہنچ کر پولیس نے سوٹ کیس باہر نکلوایا جس سے جاگیر کور کی لاش برآمد ہوئی۔ جاگیر کور کی لاش ملنے کے بعد پولیس جب ان کے مکان پر پہنچی تو معلوم ہوا کہ شوہر گرمیت کور بھی کئی دنوں سے لاپتہ ہیں تاہم دوسرے دن گرمیت کور کی بھی لاش ڈرین سے برآمد ہوئی۔پولیس کو گرمیت کی بیٹی دیویندر کور کے لہجے اور رویے پر شک ہوا اور سختی سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے اقبال جرم کرلیا۔کور نے بتایا کہ لاکھوں کی جائداد کی خاطر اس نے ماں باپ کو قتل کردیا اور اس واقعہ میں اس کے دوست پرنس نے بھی ساتھ دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…