اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی مصنفہ ارن دتی رائے کا بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ کی کارروائی کوسرجیکل اسٹرائیک تسلیم کرنے سے انکار ،مودی کا چہرہ بے نقاب کردیا

datetime 2  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد( وائس آف ایشیا)بھارتی مصنفہ ارن دتی رائے نے بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ کی کارروئی کوسرجیکل اسٹرائیک تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اب واضح ہو چکا ہے کہ یہ سرجیکل اسٹرائیک تھی ہی نہیں۔ 2016 میں اڑی میں بھارتی فوجی کیمپ پر ہونے والے حملے کے بعد کی گئی سرجیکل اسٹرائیک سے اتنا کچھ ہی حاصل ہو پایا تھا ۔

جتنا ایک متاثر کن بالی ووڈ ایکشن فلم سے حاصل ہوتا ہے۔ آسٹریلوی اخبار ہف پوسٹ(Huffpost) میں شائع اپنے تازہ مضمون میں بھارتی مصنفہ ارن دتی رائے نے لکھا ہے کہ بالاکوٹ میں کی گئی سرجیکل اسٹرائیک بھی ایک فلم سے متاثر ہو کر ہی کی گئی۔ اور اب میڈیا میں یہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ بالی ووڈ کے پروڈیوسر حضرات اپنی اگلی فلم کیلئے بالاکوٹ کے نام کے حقوق دانش (کاپی رائٹ) حاصل کرنے کی دوڑ میں لگے ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھیں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ساری اچھل کود پیشگی حملے کی بجائے الیکشن کی پیشگی تیاری لگتی ہے۔ اس ملک کے وزیراعظم کیلئے بہادر فضائیہ کو خطرناک ڈرامے میں جھونکنا انتہائی حد تک بد تہذیبی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جس انداز سے ہمارے خطے میں جوہری ہتھیاروں کی غیر ذمہ دارانہ انداز سے باتیں کی اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں، اس وقت امریکا جیسا طاقتور ملک بھی طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے جنہیں وہ 17 سال کی براہِ راست جنگ کے باوجود بھی شکست نہیں دے پایا۔ بر صغیر کا یہ پیچیدہ سمجھے جانے والا مسئلہ یقینی طور پر جتنا خوفناک نظر آتا ہے اتنا یہ ہے بھی۔ تو کیا بس یہی بات ہے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…