ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

14فروری کو پلوامہ حملہ کس نے کیا اور وہ کہاں کا رہائشی تھا, ڈی جی آئی ایس پی آرکی دھماکہ خیز پریس کانفرنس، بھارت کو دو ٹوک اور واضح پیغام دے دیا

datetime 22  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئےکہا ہے کہ پاکستان میں حالات بہتر ی کی طرف جارہے ہوتے ہیں تو بھارت میں کوئی نہ کوئی واقعہ ہوجاتا ہے۔پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے

پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ 14فروری کو پلوامہ میں کشمیری نوجوان نے قابض فورسز کو نشانہ بنایا جس کے بعد بھارت کی طرف سے پاکستان پر الزامات کی بارش ہوگئی، بغیر سوچے اور تحقیق کے الزامات لگائے گئے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ فروری اور مارچ میں پاکستان میں 8 بہت اہم ایونٹ ہورہے تھے، سعودی ولی عہد کا دورہ تھا، اقوام متحدہ میں ٹیرر لسٹ پر بات ہونا تھی، افغان امن عمل چل رہا تھا، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق پر بات چیت ہونا تھی، عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس تھا، ایف اے ٹی ایف کی سٹنگ ہونا تھی، کرتارپور بارڈر پر دونوں ملکوں میں میٹنگ تھی اور پاکستان سپر لیگ کے میچز تھے۔ترجمان پاک فوج نے کہا پلوامہ حملے کا پاکستان کا نقصان ہے، مت بھولیں پاکستان میں ہونے والے ان آٹھ ایونٹ کے علاوہ بھارت میں الیکشن بھی ہونے والے ہیں جب کہ کشمیر میں اس وقت جدوجہد عروج پر ہے جو بھارت کے قابو سے باہر ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی فورسز پر جس کشمیری نے حملہ کیا وہ مقبوضہ کشمیر کا مقامی نوجوان تھا اور یہ واقعہ ایل او سی سے میلوں دور ہوا، دھماکا خیز مواد پاکستان سے نہیں گیا اور گاڑی پاکستان کی نہیں تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…