اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

غیرملکی افواج کے انخلاء تک جنگ بندی پر رضا مند نہیں ہوں گے،طالبان رہنماء

datetime 6  فروری‬‮  2019 |

ماسکو(این این آئی)امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں طالبان کی ٹیم کی سربراہی کرنے والے رہنماء شیر محمد عباس ستنکزئی نے کہا ہے کہ طالبان افغانستان پر بزورِ طاقت قبضہ کرنے کی خواہش نہیں رکھتے تاہم طالبان جنگ بندی پر اس وقت تک رضامند نہیں ہوں گے جب تک کہ تمام بیرونی افواج افغانستان سے نہیں چلی جاتیں۔ طالبان اقتدار پر اپنی اجارہ داری نہیں چاہتے لیکن افغانستان کا آئین جو کہ

مغرب سے درآمدہ ہے وہی امن کی راہ میں رخنہ ہے۔ 1990 کی دہائی میں جب طالبان اقتدار میں تھے اور انھیں مخالف افغان گروہوں کی جانب سے مسلح مخالفت کا سامنا ہوا تو ان کے گروپ کو یہ بات سمجھ میں آ گئی تھی کہ مسائل کے حل کا بہتر طریقہ بات چیت ہے، جنگ سے زیادہ مشکل چیز امن ہے تاہم مجھے امید ہے کہ افغان تنازعہ ختم ہوجائیگا، ٹرمپ انتظامیہ افغانستان میں امن لانا چاہتی ہے۔ طالبان کے بڑھتے اثرات سے خواتین کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ خواتین کو شریعت اور افغان ثقافت کے تحت ان کے سارے حقوق دینے کی کوشش کریں گے۔وہ سکول جا سکتی ہیں، وہ یونیورسٹی جا سکتی ہیں، وہ ملازمت کر سکتی ہیں۔ماسکو میں برطانوی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم پورے ملک پر پر قبضہ کرنا نہیں چاہتے۔ اس سے افغانستان میں امن نہیں آئے گا۔تاہم شیر محمد عباس ستنکزئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان جنگ بندی پر اس وقت تک رضامند نہیں ہوں گے جب تک کہ تمام بیرونی افواج افغانستان سے نہیں چلی جاتیں۔انھوں نے کہا کہ 1990 کی دہائی میں جب طالبان اقتدار میں تھے اور انھیں مخالف افغان گروہوں کی جانب سے مسلح مخالفت کا سامنا ہوا تو ان کے گروپ کو یہ بات سمجھ میں آ گئی تھی کہ مسائل کے حل کا بہتر طریقہ بات چیت ہے۔عباس ستانکزئی نے کسی معاہدے تک پہنچنے میں آنے والی پریشانیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ سے زیادہ مشکل چیز امن ہے۔ تاہم انھوں نے امید

ظاہر کی افغان تنازعہ ختم کیا جا سکتا ہے۔عباس ستانکزئی کا بھی کہنا تھا کہ ان کا یہ خیال ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ افغانستان میں امن لانا چاہتی ہے۔عباس ستانکزئی نے کہا کہ طالبان اقتدار پر اپنی اجارہ داری نہیں چاہتے لیکن افغانستان کا آئین جو کہ مغرب سے درآمدہ ہے وہی امن کی راہ میں رخنہ ہے۔ عباس ستانکزئی نے کہا کہ طالبان کے بڑھتے اثرات سے خواتین کو

خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ خواتین کو شریعت اور افغان ثقافت کے تحت ان کے سارے حقوق دینے کی کوشش کریں گے۔انھوں نے مزید کہاکہ وہ سکول جا سکتی ہیں، وہ یونیورسٹی جا سکتی ہیں، وہ ملازمت کر سکتی ہیں۔عباس ستانکزئی نے کہا کہ طالبان نے ماسکو میں افغانستان کے ان سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے جن کے پاس زمین پر افرادی قوت ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…