اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

ایران میں ٹوئیٹر کے بعد انسٹاگرام،ٹیلیگرام پر بھی پابندی،صارفین کی تنقید

datetime 22  جنوری‬‮  2019 |

تہران (این این آئی)ایران میں سوشل نیٹ ورکنگ کی مقبول ویب سائیٹس اور ربطہ کاری کے تمام پلیٹ فارم بند ہیں، ایرانی حکام کی طرف سے آئے روز مزید پابندیوں کی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ حال ہی میں انسٹا گرام اور ٹیلیگرام پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی عوام کویہ بھی بہ خوبی علم ہے کہ یہ سوشل میڈیا کا استعمال صرف عوام کے لیے ممنوع ہے۔

جب کہ ریاست کے اعلیٰ عہدیدار دھڑلے کے ساتھ ان ویب سائیٹس کا استعمال کررہے ہیں۔ ریاستی عہدیدار ملک کے اندرونی امور اور عالمی لیڈروں کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ حالیہ عرصے کے دوران ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو کافی متحرک دیکھا گیا ۔عرب ٹی وی کے مطابق نو جنوری کو سپریم لیڈر کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے معمول کا ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ایران کے دشمن سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے سے تہران کے خلاف افواہین پھیلانے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ایرانی نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ دشمن کا منہ بند کرنے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کریں۔ان کی اس ٹویٹ پر ایک طرف تو خامنہ ای کے پرستاروں کی طرف سے تعریف توصیف کی بھرمار ہے اور دوسری طرف ان کے طرز عمل پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ٹوئٹر صارفین نے استفسار کیا کہ ایرانی نوجوان ٹوئٹر تک کیسے رسائی حاصل کریں۔ آپ نے اس پرپابندی عاید کررکھی ہے مگر آپ خود کیسے ٹوئٹر استعمال کررہے ہیں۔ ہمیں بتایا جائے کہ آیا آپ کونسی پراکسی استعمال کررہے ہیں۔ایک ٹویٹر صارف نے رسول بناھی نے لکھا کہ خامنہ ای آپ پریشان مت ہوں۔ ہم سب دشمن ہی بنائی پراکسی کے ذریعے انٹرنیٹ اور ممنوعہ ویب سائیٹس تک رسائی حاصل کریں گے اور دشمن کے منہ پردشمن ہی کے بنائے آلات سے ضرب لگائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…