ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

’’نقاب میری جوتی کے نیچے‘‘سوشل میڈیاپر نیا سعودی ہیش ٹیگ،خواتین نے اپنی ایسی تصاویر پوسٹ کردیں کہ ہنگامہ برپا ہوگیا

datetime 30  دسمبر‬‮  2018 |

ریاض(نیوزڈیسک) سعودی خواتین نے سوشل میڈیا پر چہرے کے نقاب کی پابندی کے خاتمے کی مہم میں شدت پیدا کر دی ہے۔ کئی ایسی خواتین کا موقف ہے کہ انہیں جبراً چہرے کا نقاب کرنا پڑتا ہے۔سوشا میڈیا پر متحرک سعودی خواتین چہرے کے نقاب کے حوالے سے نقاب میری جوتی کے نیچے بھی استعمال کر رہی ہیں۔ بعض خواتین نے اپنی ایسی تصاویر بھی پوسٹ کی ہیں، جن میں وہ اپنے چہرے کے نقاب کو لہراتی دکھائی دی گئی ہیں اور یہ تاثر دیتی ہیں کہ انہیں یہ جبراً پہننا پڑتا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ سعودی عرب میں ایسے کوئی ضوابط یا وفاقی قوانین موجود نہیں ہیں کہ جن سے یہ ظاہر ہو کہ خواتین کے لیے کس انداز کے پہناوے درست ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سعودی پولیس اور عدلیہ خواتین کے لباس کو شریعت کے تناظر میں دیکھتی ہے۔ سعودی عرب میں قرآنی شریعت، قانون کا سب سے اعلیٰ ماخذ قرار دیا جاتا ہے۔حالیہ ایام کے دوران سعودی خواتین نے خاص طور پر ٹویٹر پر اپنے ایسے واقعات بیان کیے ہیں، جن کے مطابق انہیں چہرے کے نقاب کو پہننے پر مجبور کیا جاتا ہے اور بسا اوقات سخت رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان واقعات میں کئی خواتین نے چہرے کے نقاب کو پہننے کے عمل کو دم گھٹنے سے بھی تعبیر کیا ۔ کئی خواتین نے نقاب کے ساتھ ایک جملہ بھی تحریر کیا کہ اس کے وجہ سے زندگی تلخ ہو کر رہ گئی ہے۔دوسری جانب اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ سبھی سعودی خواتین نقاب پہننے کے خلاف جاری احتجاجی مہم کا حصہ نہیں ہیں۔ اس تناظر میں چہرے کے نقاب کو پسند کرنے والی اور اس کی حامی خواتین نے ان عورتوں کے خلاف بے ادب کی مہم بھی سوشل میڈیا پر جواباً شروع کر رکھی ہے۔سعودی خواتین کا ایک حلقہ نقاب کے ساتھ ساتھ عبایہ مخالف مہم بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان خواتین کا موقف ہے کہ سعودی اخلاقی تقاضوں کی روشنی میں عبایہ سے ہٹ کر بھی لباس پہنا جا سکتا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے 2018 کے مہینے مارچ میں کہا تھا کہ خواتین نقاب یا عبایہ کے علاوہ دوسرے مناسب لباس پہننے کا فیصلہ خود سے کر سکتی ہیں۔ شہزادہ محمد کے اس بیان کے جواب میں سعودی عرب کی پولیس کا موقف ہے کہ ابھی کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا ہے۔ابھی تک اس چہرے کے نقاب کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری احتجاجی کمپین یا مہم کے حوالے سے سعودی حکومت کا ردعمل سامنے نہیں آیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…