اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

ملک میں آزاد میڈیا نہ ہونے کے برابرہے : ایرانی وزارت ثقافت کا اعتراف

datetime 28  دسمبر‬‮  2018 |

تہران (این این آئی)ایرانی وزارت ثقافت نے اعتراف کر لیا ہے کہ ملک میں آزاد میڈیا ادارے تقریبا نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایرانی ٹی وی کے مطابق یہ بات ملکی وزارت ثقافت کے ذرائع ابلاغ پر تحقیق کے شعبے کے سربراہ حامد رضا سایہ پرور نے اپنے ایک انٹرویو میں کہی۔وزارت ثقافت کے اس اعلیٰ اہلکار کے مطابق ایران میں زیادہ تر میڈیا ادارے یا تو ہیں ہی ریاستی ملکیت اور سرکاری انتظام میں

یا پھر ان کے لیے مالی وسال ریاست فراہم کرتی ہے۔ حامد رضا سایہ پرور نے کہا کہ ایران کے اکثر میڈیا ہاؤسز سیاسی جماعتوں کے ترجمان کا کام کرتے ہیں۔ان کے مطابق عوام کو اطلاعات کی ترسیل کے ذمے دار یہ ادارے نظریاتی طور پر اتنے جانبدار ہیں کہ وہ غیر جانبدارانہ بنیادوں پر تحقیقی صحافت کا راستہ اپنا ہی نہیں سکتے۔تہران میں ملکی وزارت ثقافت کے میڈیا ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ نے مزید کہا کہ مقامی ذرائع ابلاغ کا کسی نہ کسی کا ترجمان بنے رہنے کا یہی رویہ اس امر کا سبب بھی ہے کہ زیادہ تر ایرانی باشندے خبروں تک رسائی کے لیے غیر ملکی خبر رساں اداروں یا پھر سوشل میڈیا کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔سایہ پرور کے بقول اگرچہ ایرانی حکومت ٹوئٹر اور ٹیلیگرام جیسے سوشل میڈیا پر پابندیاں بھی لگا چکی ہے، تاہم اس کے باوجود ایرانی شہریوں کی غیر ملکی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کی طرف رغبت کم نہیں ہوئی۔اس کی ایک مثال دیتے ہوئے سایہ پرور نے بتایا کہ ٹیلیگرام پر پابندی کے باوجود قریب 40 سے لے کر 45 ملین تک ایرانی صارفین ابھی تک یہ آن لائن میسج سروس استعمال کرتے ہیں۔حامد رضا سایہ پرور نے بتایاکہ سوشل میڈیا پر پابندیاں لگانے یا انہیں نظر انداز کرنے کا دور یقینی طور پر گزر چکا ہے۔ انہوں نے یہ بات اس پس منظر میں کہی کہ ایران میں ٹیلیگرام، انسٹاگرام، ٹوئٹر اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا کئی برسوں سے ملک کی مذہبی اور حکومتی قیادت کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…