ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

داخلی سرحدوں پر کنٹرول ختم نہیں کریں گے، جرمنی نے یورپی مطالبہ مستردکردیا

datetime 27  دسمبر‬‮  2018 |

برلن(این این آئی)جرمن صوبے باویریا کے وزیراعلیٰ مارکوس زؤڈر نے یورپی کمیشن کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے، جس میں جرمنی سے داخلی سرحدوں پر کنٹرول ختم کرنے کا کہا گیا تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی کی سیاسی جماعت سی ایس یو سے تعلق رکھنے والے

باویریا کے وزیراعلیٰ مارکوس زؤڈر نے کہا کہ وہ فی الحال بارڈر کنٹرول کا سلسلہ ختم نہیں کر سکتے۔ جرمنی کے فونکے میڈیا گروپ کے ایک اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ اگر بیرونی سرحدوں کی حفاظت کی بات کی جائے تو یورپ اچھی سمت میں گامزن ہے لیکن یہ ابھی تک اپنا مقصد حاصل نہیں کر پایا۔ان کا داخلی سرحدوں پر کنٹرول جاری رکھنے کی حمایت میں مزید کہنا تھاکہ جب تک بیرونی سرحدوں کو اچھی طرح محفوظ نہیں بنا لیا جاتا، تب تک داخلی بارڈر پر کنٹرول ضروری بھی ہے اور قابل فہم بھی۔ ماضی میں بارڈر کنٹرول سے متعلق کیے گئے فیصلے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں اور عوامی سطح پر اس کی مخالفت بھی نہیں کی گئی۔باویریا کے وزیر اعلیٰ کے اس بیان سے پہلے یورپی یونین کے کمشنر برائے داخلی امور دیمیتریس اوراموپولوس نے فونکے میڈیا سے ہی گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ یورپی یونین کے اندر جاری متنازعہ بارڈر کنٹرول کے سلسلے کو ختم کیا جانا چاہیے۔ان کا جرمنی اور چند ایک دوسری یورپی ریاستوں سے مطالبہ کرتے ہوئے کہنا تھاکہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ اب وہ وقت آن پہنچا کہ داخلی سرحدوں پر عارضی طور پر چیکنگ کا شروع کیا جانے والا عمل حتمی طور پر بند کیا جائے تاکہ شینگن زون کو دوبارہ مکمل طور پر بحال کیا جا سکے۔یورپ میں مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کے بعد نہ صرف جرمنی بلکہ کئی دیگر یورپی ممالک نے بھی داخلی سرحدوں پر چیکنگ کا عمل شروع کر دیا تھا۔ یورپی یونین کے شینگن زون میں چھبیس ممالک شامل ہیں اور ان ممالک کے شہریوں کو ایک سے دوسرے ملک میں آزادانہ نقل و حمل کی اجازت ہے۔ شیگن زون کے ممالک کے شہریوں کو سرحد عبور کرنے سے پہلے کسی قسم کے ویزے یا پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…