اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

بچے شرمیلے کیوں ہوتے ہیں؟

datetime 22  دسمبر‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) ماہرین کے مطابق وہ بچے جو لوگوں سے گفتگو نہیں کرتے اور ہم انہیں شرمیلا خیال کرتے ہیں، دراصل وہ بے چینی یا اینگزائٹی ڈس آرڈر کا شکار ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ بے چینی ایک کیفیت کا نام ہے جو گھبراہٹ، بہت زیادہ خوف اور ذہنی دباؤ کا سبب بنتا ہے۔ ان تمام مسائل کو اینگزائٹی ڈس آرڈرز کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ ایک عام ذہنی مرض ہے اور دنیا بھر میں ہر

100 میں سے 4 افراد اس مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ بچوں میں اس کی علامات ’شرمیلے پن‘ کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ جب وہ اجنبی یا کم جاننے والے افراد کے سامنے گھبرا جاتے ہیں اور بول نہیں پاتے۔ جبکہ والدین، بہن بھائیوں اور دیگر قریبی رشتہ داروں سے اس وقت خوب باتیں کرتے ہیں جب قریب میں کوئی اجنبی فرد موجود نہیں ہوتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ڈس آرڈر کا شکار بچے چاہ کر بھی گفتگونہیں کرپاتے۔ اس ڈس آرڈر کو ’میوٹزم‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے یعنی عارضی گونگا پن، جس میں بچے بولنے سے گھبراتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسے بولنے کا فوبیا بھی کہا جاسکتا ہے۔ طبی اور نفسیاتی ماہرین بچوں کو اس سے بچانے کے لیے کچھ طریقے بتاتے ہیں۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ ایسے بچے بڑے ہو کر کسی حد تک لوگوں کے درمیان اپنے آپ کو غیر آرام دہ ہی محسوس کرتے ہیں اور کم گفتگو کرتے ہیں۔ علامات سب سے پہلے تو اس مرض کی علامات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ’میوٹزم‘ کا شکار بچے نروس اور شرمیلے ہوجاتے ہیں اور خاندان کے کسی قریبی فرد کے پاس ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ اگر انہیں بحالت مجبوری بولنا پڑ جائے تو وہ بولتے ہوئے ہاتھوں اور سر کو حرکت دیتے ہیں یا سرگوشیوں میں بات کرتے ہیں تاکہ کوئی اور ان کی بات نہ سکے۔ علاج آپ کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آپ کا بچہ بولنے سے شرماتا ہے۔ لوگوں کے سامنے کبھی بھی اسے بولنے پر مت اکسائیں۔ یہ کام ہمیشہ تنہائی میں کریں۔ بچے کو سمجھائیں کہ اگر وہ بولنا نہیں چاہتا تو کوئی بات نہیں۔ اس کی جگہ صرف سر ہلا کر یا مسکرا کر بھی سامنے موجود شخص کی بات کا جواب دیا جاسکتا ہے۔ بعض بچے کہیں جا کر فوری طور پر نہیں بولتے۔ آہستہ آہستہ جب وہ اس جگہ اور لوگوں سے مانوس ہوتے ہیں پھر گفتگو کرنا شروع کرتے ہیں۔ اس کیفیت کو سمجھیں اور بچے کو وقت دیں تاکہ نئی جگہ پر وہ اپنا اعتماد بحال کرلے۔ یاد رکھیں اگر بچپن میں اس مرض کو مناسب طریقہ سے ہینڈل نہ کیا جائے تو ایسے بچے بڑے ہو کر تنہائی پسند بن جاتے ہیں اور لوگوں کی مداخلت انہیں سخت ناگوار گزرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…