بدھ‬‮ ، 17 جون‬‮ 2026 

بچے شرمیلے کیوں ہوتے ہیں؟

datetime 22  دسمبر‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) ماہرین کے مطابق وہ بچے جو لوگوں سے گفتگو نہیں کرتے اور ہم انہیں شرمیلا خیال کرتے ہیں، دراصل وہ بے چینی یا اینگزائٹی ڈس آرڈر کا شکار ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ بے چینی ایک کیفیت کا نام ہے جو گھبراہٹ، بہت زیادہ خوف اور ذہنی دباؤ کا سبب بنتا ہے۔ ان تمام مسائل کو اینگزائٹی ڈس آرڈرز کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ ایک عام ذہنی مرض ہے اور دنیا بھر میں ہر

100 میں سے 4 افراد اس مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ بچوں میں اس کی علامات ’شرمیلے پن‘ کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ جب وہ اجنبی یا کم جاننے والے افراد کے سامنے گھبرا جاتے ہیں اور بول نہیں پاتے۔ جبکہ والدین، بہن بھائیوں اور دیگر قریبی رشتہ داروں سے اس وقت خوب باتیں کرتے ہیں جب قریب میں کوئی اجنبی فرد موجود نہیں ہوتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ڈس آرڈر کا شکار بچے چاہ کر بھی گفتگونہیں کرپاتے۔ اس ڈس آرڈر کو ’میوٹزم‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے یعنی عارضی گونگا پن، جس میں بچے بولنے سے گھبراتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسے بولنے کا فوبیا بھی کہا جاسکتا ہے۔ طبی اور نفسیاتی ماہرین بچوں کو اس سے بچانے کے لیے کچھ طریقے بتاتے ہیں۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ ایسے بچے بڑے ہو کر کسی حد تک لوگوں کے درمیان اپنے آپ کو غیر آرام دہ ہی محسوس کرتے ہیں اور کم گفتگو کرتے ہیں۔ علامات سب سے پہلے تو اس مرض کی علامات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ’میوٹزم‘ کا شکار بچے نروس اور شرمیلے ہوجاتے ہیں اور خاندان کے کسی قریبی فرد کے پاس ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ اگر انہیں بحالت مجبوری بولنا پڑ جائے تو وہ بولتے ہوئے ہاتھوں اور سر کو حرکت دیتے ہیں یا سرگوشیوں میں بات کرتے ہیں تاکہ کوئی اور ان کی بات نہ سکے۔ علاج آپ کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آپ کا بچہ بولنے سے شرماتا ہے۔ لوگوں کے سامنے کبھی بھی اسے بولنے پر مت اکسائیں۔ یہ کام ہمیشہ تنہائی میں کریں۔ بچے کو سمجھائیں کہ اگر وہ بولنا نہیں چاہتا تو کوئی بات نہیں۔ اس کی جگہ صرف سر ہلا کر یا مسکرا کر بھی سامنے موجود شخص کی بات کا جواب دیا جاسکتا ہے۔ بعض بچے کہیں جا کر فوری طور پر نہیں بولتے۔ آہستہ آہستہ جب وہ اس جگہ اور لوگوں سے مانوس ہوتے ہیں پھر گفتگو کرنا شروع کرتے ہیں۔ اس کیفیت کو سمجھیں اور بچے کو وقت دیں تاکہ نئی جگہ پر وہ اپنا اعتماد بحال کرلے۔ یاد رکھیں اگر بچپن میں اس مرض کو مناسب طریقہ سے ہینڈل نہ کیا جائے تو ایسے بچے بڑے ہو کر تنہائی پسند بن جاتے ہیں اور لوگوں کی مداخلت انہیں سخت ناگوار گزرتی ہے۔



کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…