ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

پا کستان پر قر ضو ں کا بو جھ کتنے ارب ڈالر ز ہو چکا اور اسے 2022-23میں کتنے ارب ڈالرز ادا کر نے ہو ں گے،چا ئنہ ڈیلی کے انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

بیجنگ(آئی این پی)پاکستان پر بیرونی قرضوں کا حجم 95ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جبکہ 2022-23میں ڈیٹ سروسنگ کی حد 31ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی ، پاکستان کو قرض دینے والے مغر بی مما لک اس کی مالیاتی پالیسیوں اور خودمختاری پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں ،

سی پیک کی ڈیٹ سروسنگ رواں سال شروع ہوگی جو کہ زیادہ سے زیادہ سا لا نہ صرف80ملین ڈالر تک جائے گی ۔ہفتہ کو چائنہ ڈیلی میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے سی پیک کے تحت چین سے مختلف منصوبوں کیلئے قرض حاصل کئے ہیں ، سی پیک کے تحت چین کے صوبہ سنکیانگ کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں واقع گوادر بندرگاہ سے ملایا جائے گا ، متعدد منصوبے پاکستان میں توانائی کی کمی کو پورا کرنے میں مدد دے رہے ہیں جو کہ معاشی شرح نمو کیلئے ناگزیر ہیں ، سی پیک کے تحت حاصل کئے جانے والے قرضوں کی ادائیگی رواں سال شروع ہو گی جو کہ زیادہ سے زیادہ 80ملین ڈالر سالانہ ہے ۔ پاکستان کو سب سے زیادہ قرض ادا کرنے والا ملک چین نہیں بلکہ مغربی ممالک ہیں جن میں سے سب سے زیادہ قرضہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف ) کی جانب سے دیا گیا ہے ۔ پاکستان کا قرض 95ارب ڈالر تک ہو چکا ہے جبکہ اسے 2022 اور2023میں ڈیٹ سروسنگ کی مد میں 31ارب ڈالر ادا کرنے ہوں گے ، اس چیز کے واضح نشانات موجود ہیں کہ پاکستان کو قرض دینے والے مغربی ممالک پاکستان کی مالیاتی پالیسیوں اور خودمختاری پر مختلف طریقوں سے متاثر ہوتے ہیں اور پھر قرضوں کی ری شیڈولنگ کردی جاتی ہے ۔ میڈیا ان اقدامات کو کبھی شائع نہیں کرتا اور نہ ہی یہ معلومات فراہم کی جاتی ہیں کہ سی پیک کے تحت پاکستان نے جو قرض حاصل کئے ہیں ان کا فائدہ براہ راست عوام کو حاصل ہوا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…