ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف اور حکومت کے مابین مشاورت کا آغاز

datetime 28  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد نے حکومتِ پاکستان کے ساتھ اقتصادی اعداد و شمار اور مستقبل کی معاشی پالیسییوں کے حوالے سے گفتو شنید کا آغاز کردیا جس کے بعد متوقع طور پر ادائیگیوں کے توازن برقرار رکھنے کے لیے مدد حاصل ہوسکے گی۔ رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے سینیئر ماہرِ معاشیات ہیرلڈ فنگر کی سربراہی میں

وفد نے وزیر خزانہ اسد عمر اور سیکریٹری خزانہ عارف احمد خان کی سربراہی میں ٹیم س علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ مذکورہ وفد 4 اکتوبر تک پاکستان کے دورے پر ہے، تاہم اس حوالے سے آئی ایم نے باضابطہ طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا نہ ہی وزیر خزانہ اس بارے میں گفتگو کے لیے دستیاب ہوسکے۔ ’مہنگی کاروں،موبائل فونز کی درآمد پر پابندی آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بچاسکتی ہے‘ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین میکرواکنامک اشاروں، خاص کر توانائی کے شعبے، پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تفصیلات اور پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) حکومت کے بنیادی اصلاحات کے منصوبے سمیت خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے حوالے سے مشاورتی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ خیال رہے کہ حکومت نے رواں مالی سال کے لیے 8 سے 9 ارب ڈالر کی ضرورت کا تخمینہ ظاہر کیا ہے لیکن ابھی تک حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ چین اور سعودی عرب سے کس قدر مدد حاصل ہوسکے گی۔ اس حوالے سے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ آپ اسے پیشگی روابط سمجھ سکتے ہیں لیکن ابھی تک قیادت کی جانب سے آئی ایم ایف سے مدد حاصل کرنے کے لیے فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گفتگو کے دوران بنیادی نکتہ حکومت کا سرکاری اداروں کی نجکاری ہوگا کیوں کہ سابق حکومت خسارے میں چلنے والے اداروں کے سلسلے میں قابلِ ذکر اقدامات نہیں کرسکی۔

واضح رہے کہ شدید مالی بحران کے شکار سرکاری اداروں میں پاکستان سٹیل ملز، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز، گیس کے 2 پیداواری ادارے او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل جبکہ توانائی کا شعبہ شامل ہے جو نجکاری فہرست کا حصہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد، سی پیک کے تحت منصوبوں کی تفصیلات بالخصوص توانائی کے مکمل کیے جانے والے منصوبوں اور زیر تعمیر منصوبوں

اور انکی تکمیل کے مرحلوں کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے حکومت، خاص کر توانائی اور خزانے کے شعبہ جات سے صارفین سے رقوم کی مکمل وصولی کے حوالے سے پیش کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی طلب کیں۔ جس کے بارے میں دونوں محکموں کو تازہ ترین اعداد و شمار سے آگاہ کرنا ہوگا، اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے سیکریٹری خزانہ

، گورنر اسٹیٹ بینک، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین، نجکاری، توانائی اور پیٹرولیم کے سیکریٹریز پر مشتمل ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے. دوسری جانب انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں 8 سے 14 اکتوبر تک متوقع آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاس میں وزیر خزانہ کی ان مالیاتی اداروں کی قیادت سے ملاقات کا امکان ہے جس میں مستقبل کے اقدامات کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…