بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

ادلب پر چڑھائی کی تیاریاں مکمل،شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کی کوشش کریں گے،شام

datetime 31  اگست‬‮  2018 |

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے کہا ہے کہ سرکاری افواج جلد شمال مغربی صوبے ادلب میں کارروائی کریں گی اور ان کا مرکزی ہدف النصرہ محاذ کے جنگجو ہوں گے۔ شامی نظام ادلب میں شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کی کوشش کرے گا۔عرب ٹی وی کے مطابق وہ ماسکو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے بات چیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ’’شام کسی فوجی کارروائی میں کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کرے گا اور اس کے پاس اس طرح کے ہتھیار ہیں بھی نہیں۔شامی حکومت ( جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں ) شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کی کوشش کرے گی۔ قبل ازیں شام کے لیے

اقوام متحدہ کے  خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی میستورا نے ادلب میں شامی فوج کی باغیوں کے خلاف بڑی کارروائی کے پیش نظر اس صوبے میں جانے کی پیش کش کی ہے تاکہ شہریوں کے وہاں سے انخلا میں مدد دی جاسکے۔شامی فوج روس کے ساتھ مل کر ادلب کا کنٹرول واپس لینے کے لیے ایک بڑی کارروائی کی تیاری کررہی ہے۔اس صوبے میں شام کے دوسرے علاقوں سے بے دخل ہوکر آنے والے ہزاروں باغی جنگجو اور ان کے خاندان رہ رہے ہیں۔اگر شامی فوج عام شہریوں کو انخلا کا موقع دیے بغیر باغی گروپوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتی ہے تو پھر اس میں بڑے پیمانے پر شہریوں کی ہلاکتوں کا اندیشہ ہے اور وہاں انسانی بحران بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…