ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

الزامات مسترد ،میرے خلاف ڈھول 35ارب کا بجایاجارہاتھا اور نوٹس کتنے کا ملا ہے؟ آصف زرداری نے بھی فوج کے کردار کی مخالفت کردی، حیرت انگیز انکشافات

datetime 11  جولائی  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے خود پر لگائے گئے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے بھی ایسے کیسز کا سامنا کیا ٗاب بھی کروں گا ٗہمیں ڈیڑھ کروڑ کا نوٹس ملا ہے اور ڈھول 35 ارب کا بجایا جارہا ہے ٗالیکشن کے بائیکاٹ کے بارے میں غور نہیں کر رہے، بائیکاٹ کرکے کسی کو موقع نہیں دیں گے ٗمیرے خیال میں کسی بھی جے آئی ٹی میں فوج کے نمائندے کو نہیں ہونا چاہیے ٗ

میرے خیال میں کسی بھی جے آئی ٹی میں فوج کے نمائندے کو نہیں ہونا چاہیے۔نجی ٹی وی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ ہمیں ڈیڑھ کروڑ کا نوٹس ملا ہے اور ڈھول 35 ارب کا بجایا جارہا ہے۔آصف علی زرداری نے کہا کہ جو ہونے والا ہے اسے جمہوری طور پر روکنا ہے ٗ الیکشن کے بائیکاٹ کے بارے میں غور نہیں کر رہے، بائیکاٹ کرکے کسی کو موقع نہیں دیں گے۔انہوں نے کہاکہ یہ الیکشن کا موقع ہے ٗ احتساب کا نہیں، احتساب الیکشن سے پہلے یا بعد میں ہونا چاہیے۔سابق صدر نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی سیاست کا انحصار حالات پر منحصر ہے۔آصف زرداری نے کہا کہ جسے بھی حکومت بنانی ہے اسے پیپلز پارٹی سے بات کرنا پڑیگی اور پارٹی جس سے بھی بات کرے گی لین دین پر بات ہوگی۔انہوں نے کہاکہ جو بھی ہونے جارہا ہے جمہوریت کو پٹڑی سے اترنے نہیں دیں گے، سنوں گا سب کی لیکن کروں گا وہی جو پیپلز پارٹی اور پاکستان کیلئے اہم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میرے وکیل ایف آئی اے میں پیش ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ میری ٹانگوں پر بم باندھا گیا ٗ میرے خلاف کچھ ثابت نہیں ہوا ٗحسین لوائی بزرگ آدمی ہیں ان کو ٹارچر کیا جارہا ہے اس کی مذمت کرتا ہوں۔سابق صدر نے کہا کہ میرے خلاف بننے والی جے آئی ٹی کے چیف نجف مرزا ہیں ٗ میرے خلاف جو کیس بنایا جارہا ہے اس کا جواب دوں گا۔ میرے خیال میں کسی بھی جے آئی ٹی میں فوج کے نمائندے کو نہیں ہونا چاہیے۔

میرے خلاف جتنی بھی جے آئی ٹی بنیں فوج کے نمائندے شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ جو بھی ہونے جا رہا ہے اس کو ہم نے جمہوری طریقے سے روکنا ہے۔ یہ انتخابات کا وقت ہے سیاستدانوں کے احتساب کا وقت نہیں، ہم نے حکومت میں ہوتے ہوئے متعدد مقدمات کا سامنا کیا ہے۔ آصف زرداری نے کہا کہ سیاست دان کبھی نہیں مرتے، سب کی سنتا ہوں، کرتا وہی ہوں جو پیپلزپارٹی اور ملک کے مفاد میں ہو۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرعاصم میرے دوست ہیں منظورکاکا نہیں ٗ شرجیل میمن حکومت میں وزیر تھے میرے دوست نہیں۔نواز شریف کے حوالے سے سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ کہاں بھٹو، کہاں نوازشریف، کہاں محترمہ شہید اور کہاں مریم نواز؟ نوازشریف کا بھٹو اور محترمہ شہید کے کیسز سے موازنہ نہ کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…