جمعہ‬‮ ، 24 جولائی‬‮ 2026 

نوازشریف نے عین موقع پرگیم اُلٹ دی،ان کے ساتھ لندن سے 132 لوگ آرہے ہیں، یہ لوگ کون ہیں اورجہاز کے اندر کیا کچھ موجود ہوگا؟چونکا دینے والے انکشافات

datetime 10  جولائی  2018 |

لاہور (آئی این پی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما و سینٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ لندن سے 132لوگ میاں صاحب کے ساتھ آرہے ہیں، جہاز کے اندر وائی فائی کی سہولت دستیاب ہوگی اور کچھ میڈیا کے لوگ جہاز کے اندر سے براہ راست رپورٹنگ کریں گے، میاں صاحب کا وطن واپسی کا فیصلہ دلیرانہ ہے، پورا الیکشن انکے اردگرد گھوم رہا ہے،جیپ میں پیٹرول توبہت ہے مگر اس میں مسافر نظرنہیں آتے، مسافروں سے جیپ ابھی تک محروم ہے

بلکہ ووٹر ز ہمارے ساتھ ہیں،ہم نے 1970میں 1988میں ، 1993میں بھی معلق پارلیمنٹ لانے کی کوششیں ہوتی دیکھیں مگر اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ ان کوششوں میں کامیاب نہیں ہوپائی، اب تو پھر سوشل میڈیا کا دور ہے عوام بہت زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں ، لولی لنگڑی ہی سہی مگر ملک میں جمہوریت ہے، سب کو آئین کے مطابق کام کرنا چاہیے، ہم چاہتے ہیں کہ سب کو یکساں مواقع ملنے چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس غیر سیاسی تھی ،ہم چاہتے ہیں ماضی کی غلطیاں نہ دہرائی جائیں،۔وہ منگل کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ ہم نے 1970میں 1988میں ، 1993میں بھی ہتگ پارلیمنٹ لانے کی کوششیں ہوتی دیکھی ہیں مگر اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ ان کوششوں میں کامیاب نہیں ہوپائی، اب تو پھر سوشل میڈیا کا دور ہے عوام بہت زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں ، لولی لنگڑی ہی سہی مگر ملک میں جمہوریت ہے، جیپ میں پیٹرول توبہت ہے مگر اس میں مسافر نظرنہیں آتے مسافروں سے جیپ ابھی تک محروم ہے بلکہ ووٹر ز ہمارے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب کو آئین کے مطابق کام کرنا چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان خوش آئندہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ سب کو یکساں مواقع ملنے چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس غیر سیاسی تھی ہم چاہتے ہیں ماضی کی غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔ کسی کو روکنا اور آگے چھلانگ نہیں مارنا چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما نے کہا کہ یہ قومی وحدت کا وقت ہے۔ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔ ہمیں قومی اتحاد کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرنا چاہتے ۔ انہوں نے کہا کہ لوگ میاں صاحب کے ساتھ ہیں۔ ہمارے مخالفین اپنی انتخابی مہم میں ہمارا زیادہ تذکرہ کررہے ہیں۔

میاں صاحب کا وطن واپسی کا فیصلہ دلیرانہ ہے۔ میاں صاحب کی اہلیہ کی بیماری کے باوجود اپنی قومی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے وطن واپس آرہے ہیں۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ اب پورا الیکشن میاں نواز شریف کے اردگرد گھوم رہا ہے۔ لندن 132لوگ میاں صاحب کے ساتھ آرہے ہیں۔ جہاز کے اندر وائی فائی کی سہولت دستیاب ہوگی اور کچھ میڈیا کے لوگ جہاز کے اندر سے براہ راست رپورٹنگ کریں گے۔ بی بی سی اور سی این این کے لوگ بھی ان کے ساتھ آرہے ہیں۔ آصف زرداری اور فریال تالپور کے نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی کے ساتھ بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ الیکشن کا وقت ہے اور 25جولائی کو عوام فیصلہ کرنے دینا چاہیے۔)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…