اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

جرمن سفیر کراچی کی سڑک پر بیٹھے حجام سے متاثر بال کٹوائے ،پھر آئوں گا تو کیا کروں گا ؟جرمن سفیر کا ایسا اعلان جس نے سب کو حیران کر دیا تصاویر سوشل میڈیا پروائرل

datetime 8  جولائی  2018 |

کراچی(این این آئی) پاکستان میں تعینات جرمن سفیر مارٹن کوبلر سڑک پر بیٹھے حجام سے بال کٹوا کر اسے سے بے حد متاثر ہوئے۔حال ہی میں مارٹن کوبلر نے کراچی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایک فٹ پاتھ پر موجود حجام محمد سے اپنے بال بھی کٹوائے۔انہوں نے بال کٹواتے وقت تصاویر بنوائیں اور ٹوئٹر پر شیئر کیں جس میں انہوں نے بے حد خوشی کا اظہار کیا۔ٹوئٹ میں تصاویر شیئر کرتے ہوئے جرمن سفیر نے لکھا کہ کراچی کی گلیوں میں بال کٹوائے!!

حجام محمد سے مل کر اچھا لگا، وہ یہ کام کر کے اپنی بیوی اور 6 بچوں کی کفالت کرتا ہے، امید کرتا ہوں اپنے اگلے دورے پر اس سے پھر سے ملاقات ہوگی۔جرمن سفیر کی اعلیٰ ظرفی پر کئی صارفین نے ان کے عمل کو سراہا اور ان کو ایک فٹ پاتھ کے حجام سے بال کٹوانے پر خوب داد دی۔ایک صارف محمد حنیف کا کہنا تھا کہ یہ کافی زبردست بات ہے کہ جرمن سفیر نے ایک عالیشان دکان کے بجائے ایک سڑک پر غریب کی دکان پر جانے کو ترجیح دی۔ایسے ہی ایک اور صارف رضا نے ان کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ایک مڈل کلاس بھی گلی کے حجام کے پاس نہیں جاتا ٗ آپ سیاستدانوں کے نسبت نچلے طبقے کے مسائل زیادہ بہتر جانتے ہوں گے، آپ واقعی انسانیت سے محبت کرنے والے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…