ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

ن لیگ چھوڑ کر آنیوالے اس سابق وزیر کو ٹکٹ کیوں دی؟ عمران خان بڑی مصیبت میں پھنس گئے، بنی گالہ میں کارکنوں نے احتجاج کی نئی مثال قائم کر دی، ایسا کام کر دیا کہ کپتان بھی ہکا بکا رہ گئے

datetime 21  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) ملتان کے حلقہ این اے 154 کی کئی یونین کونسلوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے بنی گالہ پہنچ کر سکندر بوسن کی پارٹی میں شمولیت کے خلاف عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیا اور شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی بھی کی ۔ تفصیلات کے مطابق ملتان کے حلقہ این اے 154 کی کئی یونین کونسلوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے بنی گالہ

پہنچ کر سکندر بوسن کو ٹکٹ دیئے جانے کے خلاف عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیا اور شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی بھی کی ۔مظاہرین نے درجنوں بسوں اور گاڑیوں پر ملتان سے مارچ شروع کیا اور وہ دو روز قبل بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر پہنچے انہوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر سابق وفاقی وزیر خوراک و زراعت اور مسلم لیگ ن چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہونے والے رہنماء سکندر بوسن کی مذمت کیے جانے پر مشتمل نعرے درج تھے ۔ وہ موقع پرستوں کے خلاف احتجاجی نعرے بھی لگا رہے تھے کہ ایسے لوگ وفاداروں کا حق مار کر پی ٹی آئی میں گھس گئے ہیں ۔ اس موقع پر پی ٹی آئی ملتان سٹی یوتھ کے صدر مہر شعیب آہیر کا کہنا تھا کہ ان مظاہرین میں اپنا پیغام پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت تک پہنچانے کے لئے چھ سو کلومیٹر کا سفر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک احمد حسین ڈہر جیسے پر عزم رہنما ء کو این اے 154 سے ٹکٹ دیا جانا چاہیے تھا سکندر بوسن کو وہاں سے ٹکٹ دینا غلط ہے ، یونین کونسلر جہانگیر آباد کے رانا جنگ شیر نے کہا کہ این اے 154 کے ووٹرز اور سپورٹرز لوٹیروں ، جہاگیرداروں اور لوٹوں کے خلاف ہیں اور وہ کسی کو چور دروازے سے پی ٹی آئی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اچھے کردار کے لوگوں کو شامل کیا جانا چاہیے جو ہر مشکل وقت میں پارٹی کا ساتھ دیتے ہیں ۔ یونین کونسل قاسم بیلا کے ملک شفیق نے کہا کہ پارٹی قیادت کو بد کردار لوگوں کے آگے دروازے بند کر دینے چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ایسے لوگوں کو پارٹی میں شامل نہ کیا جائے اور کئی سالوں سے پارٹی کے ساتھ رہنے والے لوگوں کو ٹکٹ دیئے جائیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…