پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

یہ وہ نہیں جو کبھی میرا دوست ہوا کرتا تھا،یہ نواز شریف تو انڈین، امریکن اور اسرائیلیوں کے ہاتھوں بک چکا،مریم نواز کیوں اپنے والد کو پھانسی دلوانا چاہتی ہیں ؟ نواز شریف کے دوست اور ملک کے سینئر ترین صحافی نے تہلکہ خیز انکشافات کر ڈالے

datetime 19  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)یہ وہ نواز شریف نہیں جو کبھی میرا دوست ہوا کرتا تھا، یہ نواز شریف ، انڈین، امریکن اور اسرائیلیوں کے ہاتھوں بک چکاہے، نواز شریف اور مریم نواز کو بیگم کلثوم نواز کوئی فکر نہیں ، مریم نواز کی سب سے بڑی خواہش اس وقت بینظیر بھٹو بننا ہے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ نواز شریف کو پھانسی ہو جائے، سابق وزیراعظم پاکستان کے دوست اور ملک کے

سینئر ترین صحافی و چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں ضیا شاہد کے تہلکہ خیز انکشافات۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کے پروگرام ’کھرا سچ ‘میں اینکر مبشر لقمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئےنواز شریف کے دوست سمجھے جانیوالے اور ملک کے سینئر ترین صحافی و چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں ضیا شاہدنے تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وہ نواز شریف نہیں جو کبھی میرا دوست ہوا کرتا تھا، یہ نواز شریف انڈین، امریکن اور اسرائیلیوں کے ہاتھوں بک چکا ہے۔ ضیا شاہد نے اس موقع پر کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو میرا نہیں خیال کہ بیگم کلثوم نواز کی کوئی فکر ہے۔ دونوں باپ بیٹی جس طرح ڈیڑھ دو ماہ سے الیکشن کمپین چلاتے رہے ہیں اور ان کے پہناووں اور طرز گفتگو اور چہرہ کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ انہیں بیگم کلثوم نواز کی کوئی فکر ہے۔ ضیا شاہد نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کی سب سے بڑی خواہش بینظیر بھٹو بننا ہے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ نواز شریف کو پھانسی ہو جائے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ انہوں نے ن لیگ کے دو اہم ترین رہنمائوں جس میں پرویز رشید بھی شامل تھے سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات کہی تھی کہ لگتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دلوانے کے مشن کے بعد اب ان کا مشن نواز شریف کو پھانسی لگوانا ہے۔ضیا شاہد نے اس موقع پر کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو میرا نہیں خیال کہ بیگم کلثوم نواز کی کوئی فکر ہے۔ دونوں باپ بیٹی جس طرح ڈیڑھ دو ماہ سے الیکشن کمپین چلاتے رہے ہیں اور ان کے پہناووں اور طرز گفتگو اور چہرہ کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ انہیں بیگم کلثوم نواز کی کوئی فکر ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…