ماسکو (این این آئی)روسی صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ شام میں فوجی کارروائیاں ان کی فورسز کی تربیت اور حربی تیاریوں کی جانچ کا منفرد موقع فراہم کرتی ہیں ۔انھوں نے سرکاری ٹیلی ویڑن سے براہ راست نشر ہونے والے شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام میں دہشت گردوں کو نشانہ بنانا ،اس سے کہیں بہتر ہے کہ انھیں روس کے اندر نشانہ بنایا جائے۔انھوں نے اس بات کی تصدیق کی
کہ روس شام سے تمام فوجیوں کے انخلا کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کررہا ہے۔روس نے ستمبر 2015ء میں شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں اور اس کی فضائی مہم کے نتیجے ہی میں شامی فوج کو باغیوں کے خلاف لڑائی میں پے درپے کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور اسد حکومت باغیوں کے زیر قبضہ بہت سے علاقے واپس لینے میں کامیابی ہوگئی ہے۔صدر پوتین نے دسمبر 2017ء میں شام میں روسی فوجیوں کی تعداد میں کمی کا ا علان کیا تھا اور کہا تھا کہ شام سے روسی فوجیوں کو بتدریج واپس بلا لیا جائے گا۔اب ان کا کہنا ہے کہ روس اس مرحلے پر شام سے اپنے تمام فوجیوں کو واپس بلانے کا ارادہ نہیں رکھتا اور جب تک روس کا مفاد وابستہ ہے، وہ شام میں موجود رہیں گے۔شام میں اس وقت روس کے فوجی مشیر ، پائیلٹ ، ٹیکنیکل اسٹاف اور ملٹری پولیس کے اہلکار بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن روس نے ان کی حقیقی تعداد کبھی نہیں بتائی ہے۔صدر پوتین کا کہنا تھا کہ شام میں روس کے زیر استعمال حمیمیم کا فضائی ہوائی اڈا اور طرطوس میں بحری اڈا شامی حکومت کی مدد کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ان کے بہ قول روس کے وہاں کوئی مستقل فوجی اڈے نہیں ۔اس کا یہ مطلب ہے کہ روسی فوج کو کسی بھی وقت اور فوری طور پر شام سے واپس بلا یا جاسکتا ہے۔ساڑھے چار گھنٹے کے اس شو میں صدر ولادی میر پوتین نے مختلف عالمی موضوعات سے متعلق سوالوں کے جواب دیے ہیں۔انھوں نے 2016ء میں امریکا میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں روس کی ممکنہ مداخلت کو ایک مذاق قرار دیا۔روسی صدر نے اعتراف کیا کہ انٹیلی جنس کمیونٹی ہمیشہ چیزوں پر پابندیوں یا بلاک کرنے کے رجحان کی حامل ہوتی ہے مگر اب وہ آزادیوں پر کسی قسم کی قدغنوں کے بغیر کوئی ’’مہذب حل‘‘ تلاش کرنے کی حوصلہ افزائی کریں گے۔