منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

شام میں روسی کارروائیاں فوجیوں کی تربیت اور جانچ کے لیے منفرد موقع ہیں،ولادی میر پوتین

datetime 8  جون‬‮  2018 |

ماسکو (این این آئی)روسی صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ شام میں فوجی کارروائیاں ان کی فورسز کی تربیت اور حربی تیاریوں کی جانچ کا منفرد موقع فراہم کرتی ہیں ۔انھوں نے سرکاری ٹیلی ویڑن سے براہ راست نشر ہونے والے شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام میں دہشت گردوں کو نشانہ بنانا ،اس سے کہیں بہتر ہے کہ انھیں روس کے اندر نشانہ بنایا جائے۔انھوں نے اس بات کی تصدیق کی

کہ روس شام سے تمام فوجیوں کے انخلا کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کررہا ہے۔روس نے ستمبر 2015ء میں شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں اور اس کی فضائی مہم کے نتیجے ہی میں شامی فوج کو باغیوں کے خلاف لڑائی میں پے درپے کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور اسد حکومت باغیوں کے زیر قبضہ بہت سے علاقے واپس لینے میں کامیابی ہوگئی ہے۔صدر پوتین نے دسمبر 2017ء میں شام میں روسی فوجیوں کی تعداد میں کمی کا ا علان کیا تھا اور کہا تھا کہ شام سے روسی فوجیوں کو بتدریج واپس بلا لیا جائے گا۔اب ان کا کہنا ہے کہ روس اس مرحلے پر شام سے اپنے تمام فوجیوں کو واپس بلانے کا ارادہ نہیں رکھتا اور جب تک روس کا مفاد وابستہ ہے، وہ شام میں موجود رہیں گے۔شام میں اس وقت روس کے فوجی مشیر ، پائیلٹ ، ٹیکنیکل اسٹاف اور ملٹری پولیس کے اہلکار بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن روس نے ان کی حقیقی تعداد کبھی نہیں بتائی ہے۔صدر پوتین کا کہنا تھا کہ شام میں روس کے زیر استعمال حمیمیم کا فضائی ہوائی اڈا اور طرطوس میں بحری اڈا شامی حکومت کی مدد کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ان کے بہ قول روس کے وہاں کوئی مستقل فوجی اڈے نہیں ۔اس کا یہ مطلب ہے کہ روسی فوج کو کسی بھی وقت اور فوری طور پر شام سے واپس بلا یا جاسکتا ہے۔ساڑھے چار گھنٹے کے اس شو میں صدر ولادی میر پوتین نے مختلف عالمی موضوعات سے متعلق سوالوں کے جواب دیے ہیں۔انھوں نے 2016ء میں امریکا میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں روس کی ممکنہ مداخلت کو ایک مذاق قرار دیا۔روسی صدر نے اعتراف کیا کہ انٹیلی جنس کمیونٹی ہمیشہ چیزوں پر پابندیوں یا بلاک کرنے کے رجحان کی حامل ہوتی ہے مگر اب وہ آزادیوں پر کسی قسم کی قدغنوں کے بغیر کوئی ’’مہذب حل‘‘ تلاش کرنے کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…