بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

دنیا کے قوانین نرالے!10احمقانہ قوانین جنہیں سن کر ہی ہنسی آجاتی ہے‎

datetime 5  جنوری‬‮  2019 |

ہر معاشرے کے آداب اور قوانین ہوتے ہیں جن کا احترام ہرشہری پر فرض ہے مگر بعض ممالک میں چند ایسے قوانین بھی نافذ ہیں جن کے بارے میں سنتے ہی ہرکوئی مسکرا دیتا ہے ۔آئیے آپ کو دس ایسے ہی احمقانہ قوانین کے بارے میں بتاتے ہیں۔

1: خبردار! کبوتروں کو دانہ مت ڈالیے!
Both Finnish and Swedish are official languages of Finland so messages on signs like this are in both. Plus English for those of us who can't do either.

 

وینس تہذیبی و ثقافتی لحاظ سے اٹلی کا دل سمجھا جاتا ہے لیکن وینس جانے والے سیاح ہوشیار رہیں‘ وہاں کبوتروں کو دانہ ڈالنا غیر قانونی ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ دانہ ڈالنے سے کبوتروں کی آبادی بڑھتی ہے اور وہ شہرمیں مختلف بیماریاں پھیلاتے ہیں۔ مشہور امریکی شہر سان فرانسسکو میں بھی کبوتروں کو دانہ ڈالنا ممنوع ہے۔ وجہ یہی ہے کہ ان پرندوں کی زیادہ آبادی امراض پھیلانے کا باعث بنتی ہے۔ ان ممالک میں کبوتروں کو دانہ ڈالنے والوں کی خبر پولیس کو پہنچانے والے شہریوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔
2: چیونگم نہ کھاؤ ورنہ!
Singapore-Chewing-Gum

 

دنیا کی اکلوتی خودمختار شہری ریاست میں حکومت صفائی ستھرائی پر خاص توجہ دیتی ہے۔سنگاپور میں اس ضمن میں اتنی سختی ہے کہ شہری سڑکوں‘ اسٹیشنوں‘ریلوں اور دیگر عوامی مقامات پر چیونگم نہیں کھا سکتے۔ اگر کوئی من چلا سڑک پر جگالی کرتا پکڑا جائے تو اس پر بھاری جرمانہ عائد ہوتا ہے۔ سنگاپور میں سگریٹ نوشی کا قانون بھی بڑا سخت ہے‘ شہری صرف گھروں یا مخصوص عوامی جگہوں پر ہی سگریٹ پی سکتے ہیں ورنہ آپ نے ریستوران‘ سڑک یا پارک میں سگریٹ جیسے ہی سلگایا پولیس آپ کو دبوچ لے گی لہٰذا وہاں چیونگم کھانے اور سگریٹ پیتے ہوئے احتیاط کیجیے۔

3:کپڑے لٹکانے ہیں تو لائسنس لیں!
904916

نیویارک دنیا کے چند گنے چنے نفیس اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے جدید شہروں میں شامل ہے۔ شاید آپ کا خیال ہو کہ اس امریکی شہر میں الٹے قوانین نہیں ملیں گے مگر یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ اگر آپ نیویارک کے باسی ہیں تو آپ کو بالکونی یا صحن میں تاروں پر کپڑے لٹکانے کے لیے لائسنس لینا ہو گا۔ کپڑے بغیر لائسنس لٹکائے جائیں تو مقامی حکومت جرمانہ لگانے میں دیر نہیں لگاتی۔ ایک اور عجیب قانون یہ ہے کہ شہر میں کوئی شہری مذاق مذاق میں گیند اپنے ساتھی کے سر پہ نہیں مار سکتا ورنہ اس اقدام پر بھی جرمانہ بھگتنا پڑتا ہے۔

4: پٹرول نہ ختم ہونے پائے!
MELBOURNE, AUSTRALIA - JULY 23: A woman uses a fuel dispenser to fill her car up with petrol at a petrol station on July 23, 2013 in Melbourne, Australia. According to CommSec, fuel prices are expected to rise further as global demand increases and as the weak Australian dollar raises the costs of fuel imports. The average fuel price nationally is at 153.5 cents per litre, which is reportedly the fastest price increase accross the nation in four years. (Photo by Scott Barbour/Getty Images)

 

گاڑی باقاعدگی سے چلانے والے جانتے ہیں کہ بعض اوقات سنسان اور ویران جگہوں پر اچانک پٹرول ختم ہو جاتا ہے تب کسی سے لفٹ لے کر یا پیدل ہی چل کر پٹرول پمپ پہنچنا پڑتا ہے لیکن جرمن شاہراہوں(آٹوبان) پر پٹرول ختم ہونا جرمانے کو دعوت دینا ہے۔ جرمن شاہراہیں بہت طویل ہیں اور ان پر سوائے ایمرجنسی کے کسی کو رکنے کی اجازت نہیں۔ یوں ڈرائیوروں کو موقع ملتا ہے کہ پوری رفتار سے گاڑیاں چلا سکیں۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ اچانک پٹرول ختم ہونا ایمرجنسی ہی تو ہے مگر جرمن قانون اسے ایمرجنسی نہیں ڈرائیور کی غلطی سمجھتا ہے کہ اس نے سفر شروع کرنے سے قبل پٹرول کی ٹینکی پر نظر کیوں نہ ڈالی؟
5: چوک میں بیٹھنا منع ہے!
l_042
سینٹ مارک اسکوائر وینس کا مشہور چوک ہے‘ وہاں کئی سڑکیں آن ملتی ہیں۔ سینکڑوں سیاح اسکوائرمیں ڈیرہ جمانے لگے‘ وہ پستے یا میوے کھاتے اردگرد کے مناظر سے لطف اندوز ہوتے لیکن جب اسکوائر میں سیاحوں کی کثرت ہو گئی تو وہاں ٹریفک جام ہونے لگا۔ اس مسئلے کا حل یہ نکالا گیا کہ چوک میں سیاحوں کی ’’پکنک‘‘ پر پابندی لگا دی گئی۔ اب اگر وہاں کوئی بیٹھے تو بلدیہ کے ملازم نرمی سے اسے بتاتے ہیں ’’یہاں بیٹھنا منع ہے۔‘‘ اگر کوئی تب بھی نہ مانے تو پھر چلو تھانے!

6: ہوائی اڈے کی تصویر مت اتاریں!
majorca-airport-arrivals-hall

قازقستان وسطی ایشیا کا ایک بڑا ملک ہے جہاں قازق مسلمانوں کے علاوہ روسی بھی بڑی تعداد میں بستے ہیں۔ اس ملک میں ہوائی اڈوں پر تصویر کھینچنا جرم ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر پولیس ملزم کو گرفتار بھی کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سبھی ممالک کے طرح فوجی اور سرکاری تنصیبات کی تصاویر کھینچنے پر بھی ممانعت ہے۔
7: نشہ آور بوٹی مت اگائیں!
Advertising-for-Marijuana-Industry-Businesses-1024x512

دنیا کے کئی علاقوں میں میری جوانا (Marijuana) اگائی جاتی ہے‘ یہ ایک نشہ آور بوٹی ہے جو انگریزی میں کنابیس (Cannabis) بھی کہلاتی ہے۔ اردو میں اس کے کئی نام ہیں مثلاً بھنگ‘ گانجا‘ حشیش وغیرہ۔ کئی سیاح اور عام لوگ نہیں جانتے کہ جمیکا میں قانونی طور پر میری جوانا کی بوٹی اْگانا جرم ہے۔ اگر کوئی اس کی کاشت کرتا پکڑا جائے تو اس کو کم ازکم دس سال تک جیل کی ہوا کھانا پڑتی ہے لہٰذا اگر آپ ویسٹ انڈیز کے اہم جزیرے جمیکا کی سیاحت پر جائیں تو میری جوانا سے دور رہیں۔

8۔ بریتھ لائزر رکھنا مت بھولیے!

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

مغربی ممالک میں شراب کا چلن عام ہے لیکن وہاں بھی جو ڈرائیور یہ مشروب پینے لگے اسے ناپسندیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔ فرانس میں تو یہ قانون ہے کہ ہر ڈرائیور کے پاس دستی بریتھ لائزر ہونا چاہیے‘یہ آلہ انسانی خون میں الکوحل کی مقدار ناپتا ہے جو ڈرائیور اس دستی (پورٹیبل) آلے کے بغیر پایا جائے اسے 11یورو جرمانہ ہو سکتا ہے۔ فرانس آنے والے سیاح بھی اس قانون سے مستثنیٰ نہیں۔

9۔ مہذب روّیہ اپنائیں!

don_t_take_off_your_pants_gray__by_masterlexicon-d6i17ij

مغربی تہذیب و ثقافت کے پروردہ مرد و زن عوامی مقامات پر بھی بے حیائی کا مظاہرہ کرتے نہیں جھجکتے ‘تاہم مغربیوں کو متحدہ عرب امارات میں احتیاط برتنا پڑتی ہے‘ وہاں مرد و زن کا ہاتھ تھام کر چلنا بھی جرم ہے۔ کچھ اور گھٹیا قدم اٹھانا تو دور کی بات ہے جو کوئی امارات میں نازیبا حرکت کرے‘ قید خانہ ہی اس کا ٹھکانا بنتا ہے۔ بعض مغربی ممالک میں بھی بے حیائی کے مظاہروں پر پابندی ہے مثلاً یونان میں کسی عوامی مقام پر اپنی پتلون اتارنا جرم ہے‘ خلاف ورزی پر آپ پربھاری جرمانہ لگ جائے گا۔ اسی طرح ہسپانوی دارالحکومت بارسلونا میں مرد و زن صرف ساحل سمندر پر ہی لباس تیراکی پہن سکتے ہیں۔

10:ریزگاری اپنے پاس ہی رکھیں!
sell-coins
جب بہت سے سکے جمع ہو جائیں تو ان سے جان چھڑوانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انہیں کسی دکان دار کے حوالے کر دیا جائے مگر کینیڈا میں ایسی حرکت نہ کیجیے گا ورنہ آپ کو خفت اٹھانا پڑے گی۔ دراصل کینیڈا کے کرنسی ایکٹ کی رو سے دکانداروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ ریزگاری لینے سے انکار کر دیں مثلاً اگر آپ ایک سینٹ کے پندرہ بیس سکے دیں تو وہ انھیں قانوناً لینے سے انکار کر سکتے ہیں۔ 



کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…