جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

میاں صاحب نے جو کہا ملک کے بہترین مفاد میں کہا،مریم نواز بھی میدان میں،جلتی پر تیل چھڑک دیا،شہبازشریف کی مخالفت،شدید ردعمل

datetime 13  مئی‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) مسلم لیگ ن کی رہنماء مریم نواز نے اپنے ایک حالیہ بیان میں سابق وزیرِاعظم کے انٹرویو کی تائید میں کہا ہے کہ جو میاں صاحب نے کہا ملک کے بہترین مفاد میں کہا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں مریم نواز شریف نے لکھا کہ جو میاں صاحب نے کہا، ملک کے بہترین مفاد میں کہا۔ ملک کو کیا بیماری کھوکھلا کر رہی ہے؟ میاں صاحب سے بہتر کوئی نہیں جانتا، وہ علاج بھی بتا رہے ہیں۔ جو میاں صاحب نے کہا ملک کے بہترین مفاد میں کہا۔

ملک کو کیا بیماری کھوکھلا کر رہی ہے میاں صاحب سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔وہ علاج بھی بتا رہے ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، پارٹی ترجمان اور وزیرِ دفاع خرم دستگیر نے اپنے اپنے بیانات میں دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے نواز شریف کے بیان کو توڑ مروڑ پر پیش کیا گیا، اس معاملے میں پاکستانی میڈیا نے ان کا موقف جانے بغیر بات آگے بڑھائی اور بھارتی پروپیگنڈہ کا حصہ بن گیا۔دریں اثنا ء مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں سے متعلق نوازشریف کا انٹرویو توڑ مروڑ کرپیش کیا گیا اور کیا نوازشریف کبھی اس طرح کی بات کرسکتے ہیں؟۔ میر پور خاص کے علاقے سنڈھری میں مسلم لیگ (ن) کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں پنجاب کا خادم اعلیٰ ہوں لیکن پہلے پاکستانی اور پھر سب کا چاہنے والا ہوں، سب صوبے خوشحال ہوں گے تو پاکستان خوشحال ہوگا، یہ بالکل جھوٹ اور غلط بیانی ہے کہ پنجاب کے سوا دوسرے صوبوں کو پانی نہیں ملتا، چاروں صوبوں کو ان کے حق کے مطابق پانی مل رہا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ آصف زرداری 10 سال سے سندھ میں حکومت کررہے ہیں کیا انہوں نے کاشت کاروں کو سہولیات دیں یا دانش اسکول طرز کے تعلیمی ادارے بنائے؟ ہم نے پنجاب میں بلاسود قرضے دیے اور سستی کھاد دی لیکن سندھ میں گنے کے کاشت کار مارے مارے پھرتے رہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ روز نوازشریف کا انٹرویو توڑ مروڑ کرپیش کیا گیا، کیا نوازشریف کبھی اس طرح کی بات کرسکتے ہیں؟۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک انگریزی اخبارکو انٹرویو میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں نوازشریف نیکہا تھا کہ سرحد پار جا کر 150 لوگوں کو قتل کردینا قابل قبول نہیں، عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنھیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں انھیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر 150 لوگوں کو قتل کر دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…