جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان نے افغانستان جنگ سے سب سے زیادہ زخم کھائے،طالبان کو انتخابات میں شامل کیا جاتا تو وہ بندوق اٹھانے کی بجائے ووٹ گنتے، افغان جنگ کی وجہ سے ہماری کتنی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، ناصر جنجوعہ نے تفصیلات بتا دیں

datetime 10  مئی‬‮  2018 |

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک)مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ نے کہا کہ افغانستان کی ترقی میں پاکستان اور پورے خطے کا فائدہ ہے، بدقسمتی سے ا فغانستان کے بچوں نے جنگ کے سوا کچھ نہیں دیکھا، میں جو جنگ شروع ہوئی اس کا شکار پاکستان اور افغانستان دونوں ہوئے، پاکستان نے افغانستان جنگ سے سب سے زیادہ زخم کھائے، افغان طالبان کو پہلے انتخابات میں شامل نہ کرنا تاریخی غلطی ہے،

اگر طالبان کو انتخابات میں شامل کیا جاتا تو وہ بندوق اٹھانے کی بجائے ووٹ گنتے۔جمعرات کو افغانستان میں ترقی ،اور امن و استحکام کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان اور عوام کو افغانستان کا امن درکار ہے، افغانستان کی ترقی میں پاکستان اور پورے خطے کا فائدہ ہے، ہم افغانستان کے امن اور ترقی کی بات کرتے ہیں، بدقسمتی سیافغانستان کے بچوں نے جنگ کے سوا کچھ نہیں دیکھا، ہمارے دل میں افغانستان کے عوام کیلئے ہمدردی ہے، 1979میں جو جنگ شروع ہوئی اس کا شکار پاکستان اور افغانستان دونوں ہوئے، تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ کھڑا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان جنگ سے سب سے زیادہ زخم کھائے، سیکورٹی فورسز کے 22ہزار جوانوں اور افسران نے جام شہادت نوش کیا، جبکہ 60ہزار سے زائد شہریوں نے اس جنگ میں اپنی جانیں قربان کیں، 9/11کے بعد کی جنگ میں 1979کی جنگ سے زیادہ نقصان ہوا۔پاکستان کی معیشت اتنی مضبوط نہیں تھی کہ ہم افغانستان کو سنبھال سکتے، طاقت کا اس قدر استعمال کیا گیا کہ افغان معاشرہ زخم خوردہ ہوا۔ مشیر قومی سلامتی نے کہا افغان طالبان کو پہلے انتخابات میں شامل نہ کرنا تاریخی غلطی ہے، اگر طالبان کو انتخابات میں شامل کیا جاتا تو وہ بندوق اٹھانے کی بجائے ووٹ گنتے، افغان طالبان نے اپنی عوام کو بتایا کہ ہم نے افغانستان کو آزاد کروانا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…