منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مردان کی اسما کا قاتل خیبرپختونخواہ پولیس نے نہیں بلکہ شہباز شریف کی بنائی پنجاب فرانزک لیبارٹری کی وجہ سے پکڑا گیا، قاتل پولیس کے ساتھ بیٹھ کر سارا دن گپیں لگاتا تھا اور وہ اس کی شناخت تک نہ کر سکی

datetime 7  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)صوبائی وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے مردان کی ننھی اسما کے قاتل کی گرفتاری کے حوالے سے آئی جی کے پی کے کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے خیبرپختونخواہ پولیس کو ایک بار پھر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اس پر سخت تنقید کی ہے ۔ رانا ثنا اللہ نے خیبرپختونخواہ پولیس پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسما کے والدین سے پولیس کے حق میں

زبردستی بیان دلوائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی جی کے پی کے نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ ہماری اسما قتل کیس پر حوصلہ شکنی کی گئی ہے تو اس پر میں یہ کہوں گا کہ جب آپ لوگوں کی یہ کارکردگی ہو گی تو کیا لوگ آپ کی اپنے منہ سے کی گئی تعریفوں سے آپ کی کارکردگی کو بہتر سمجھنا شروع ہو جائیں، اس موقع پر رانا ثنا اللہ نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان صاحب یہ ہے آپ کی پولیس کی کارکردگی کہ وہ مدعیان کو مینج کرتی ہے، میڈیا میں بیان دلواتی ہے، جھوٹ بولتی ہے، کیس کو دبانے کی کوشش کرتی ہے، غلط بیانی کر کے لاش ڈھونڈنے کا سہرا اپنے سر لیتی ہے۔ رانا ثنا اللہ نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ڈی این اے رپورٹ دینے سے تین روز قبل انہوں نے کہا تھا کہ اسما کے ساتھ زیادتی نہیں کی گئی اور اس کی طبعی موت ہوئی ہے۔ خیبرپختونخواہ پولیس نے اس طرح کیس کو دبانے اور معاملے کو نیا رخ دینے کی کوشش کی۔ رانا ثنا اللہ نے ایک بار پھر عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم بھی لاڈلے ہو اور تمہاری پولیس بھی لاڈلی ہے جو کہ تین ہفتے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی رہی اور ملزم اس دوران پولیس کے پاس بیٹھا رہتا تھا اور وہ اس کو شناخت نہیں کر سکی، اسما کا قاتل کبھی پکڑا نہیں جاتا، اس کی شناختی اس لیبارٹری کی وجہ سے ہوئی جس کا قیام آج سے آٹھ سال قبل میاں شہباز شریف نے لایا تھا کہ اس طرح کی لیبارٹری

ہونی چاہئے جو کہ سائنٹیفک انویسٹی گیشن میں مدد فراہم کر سکے اور یہ لیبارٹری انہوں نے صوبے کیلئے نہیں بلکہ ملک کیلئے بنائی۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ فرانزک لیبارٹری پنجاب میں اتنی گنجائش ہے جو کہ ابھی بڑھائی بھی گئی ہے کہ وہ نہ صرف پنجاب بلکہ ملک کے دیگر صوبوں کو بھی اپنی خدمات فراہم کر سکے۔ پنجاب فرانزک لیبارٹری کی شاندار ساکھ کی وجہ سے پوری دنیا میں کیسز

اس کے پاس بھیجے جاتے ہیں۔ رانا ثنا اللہ نے اس موقع پر ایک بار عمران خان کو مخاطب کیا اور کہا کہ اگر تم میں تھوڑی بھی ہے تو تم اس کیس کے حل ہونے پر ڈی جی پنجاب فرانزک لیبارٹری اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا شکریہ ادا کرو۔ اگر یہ لیبارٹری نہ ہوتی تو یہ کیس تین ہفتے کیا تین سال تک ٹریس نہ ہوتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…