پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز میں مزید زلزلے آنے کی پیشن گوئی کردی،کیا کچھ ہوسکتاہے؟ انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 31  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز میں مزید زلزلے آنے کی پیشن گوئی کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز زلزلے کے شدید جھٹکوں نے ملک کے بیشتر علاقوں کو لرزا کر رکھ دیا۔ زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ لوگوں کو اپنے گھروں اور دفاتر سے باہر نکلنا پڑا۔ زلزلے کے شدید جھٹکوں نے عوام میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ جبکہ اب محکمہ موسمیات نے اس حوالے تشویش ناک پیشن گوئی کی ہے۔

محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز میں مزید زلزلے آنے کی پیشن گوئی کردی ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ہلکی اور درمیانی شدت کے زلزلے پاکستان کے کئی علاقوں میں آئندہ چند روز میں آ سکتے ہیں۔ پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائن پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آ سکتا ہے۔ کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان “انڈین پلیٹ” کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ”سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کا دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانی درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔ کشمیر اور گلگت بلتستان انڈین پلیٹ کی ا?خری شمالی سرحد پر واقع ہیں اس لئے یہ علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہر زون تھری میں شامل ہیں۔ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیرِ زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یا زون فور کہلاتا ہے۔ کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر ہیں۔ یہ ساحلی علاقہ 3 پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر نہیں، اسی لئے یہ علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ تصور کئے جا سکتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے فالٹ لائنز کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…