ہفتہ‬‮ ، 14 فروری‬‮ 2026 

معصوم جانوں کی ضیائع پر سیاست چمکانے کا کاروبار بند کریں!!

datetime 10  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(نیوز ڈیسک)بابا بلھے شاہ کے شہر قصور میں حیوانت کا شکار بننے والی آٹھ سالہ زینب کی موت پر ہر آنکھ اشک بار۔ درندہ صفت شخض نے سفاکیت کے ساتھ کم سن بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور زیادتی کے بعد بڑی بے رحمی سے قتل کر کے نعش کوکوڑے کے ڈھیر پرپھینک دی۔میڈیا پر جیسے ہی یہ خبر نشر ہوئی ، حکومت کے خلاف عوام میں رنج و غصہ کی لہر اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ دل سوز اس واقعے سے فضا سوگوار اور

ملک بھر میں کہرام برپا ۔قصور کی عوام نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور ملزمان کی گرفتاری تک پر امن احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ مگر معصوم ننھی جان کے خون پر بھی مفاد پسند سیاستدانوں نے اپنی سیاست چمکانے کا گھنونا کھیل جاری رکھا۔ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان نے پر امن احتجاج کو اشتعال انگیز مظاہرہ میں بدل دیا۔احتجاج میں موجود پی اے ٹی کے کارکنان نے پولس ہر لاٹھی چارج اور پتھراؤ کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پرا من احتجاج فساد کی شکل اختیار کر گیا اور احتجاج میں شامل افراد مشتعیل ہوگئے۔ مشتعل افراد کو روکنے کے لئے پولیس نے فائرنگ کی۔ جسکی ذد میں آکر ایک شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ جس کے بعد عوامی تحریک کے بانی علامہ طاہر القادری کے پنجاب حکومت کو نقارہ بنانے کے اپنی ناکامی کے تمام ترپرانے زخم تازہ ہوگئے اور انھیں پنجاب حکومت کے خلاف سازش رچنے کا ایک اور موقع مل گیا۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان مظاہروں اور احتجاج کا اصل مقصد کیا ہے؟ اگر مقصد زینب کو انصاف دلانا ہے تو موجودہ صورتحال کو سانحہ ماڈل ٹاؤن سے تشبیہ دینا ، کہاں کی عقلمندی ہے؟ ایسی حرکتوں سے ملزم کو فرار پانے کا موقع کیوں دیا جائے؟ پاکستان عوامی تحریک کے شر پسند ردعمل سے یہ واقعہ سیاسی رنگ دھارن کر

لے گا اور اجتجاج کاحقیقی مقصد پس پشت رہ جائے گا۔قصور سانحہ پر پاکستان عوامی تحریک ا پنی سیاست چمکانے کے بجائے ملز م کو کیف کردار تک پہچانے میں مدد کرنی چاہیے‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…