پیر‬‮ ، 29 جون‬‮ 2026 

امریکیوں کے کہنے پر قبائلی علاقے میں فوج بھیجی، ہم نے فوج اور قبائلیوں کو لڑا دیا، دہشت گردی پھر واپس آ سکتی ہے، عمران خان کا اعلان

datetime 9  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں آج تباہی مچی ہوئی ہے، ان علاقوں میں ڈویلپمنٹ ضروری ہے، ان کا نظام ختم ہو گیا ہے، اگر اس خلاء کو پر نہ کیا گیا اور کے پی کے کا حصہ نہ بنایا گیا تو دہشت گردی پھر واپس آ سکتی ہے، کے پی کے کی اسمبلی کا قبائلیوں کو حصہ بننا چاہیے، ان کی آواز ہو جائے گی اسمبلی میں، قبائلیوں کا پرانا بلدیاتی نظام ہے، ہر گاؤں میں انصاف ہے،

کبھی کسی کو قبائلیوں کے پیار پر شک نہیں ہونا چاہیے، وزیرستان میں تانبہ، گیس، تیل کے وسیع ذخائر ہیں، آج یہ حال ہے کہ 73فیصد قبائلی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں،پنجاب میں مسلمانوں کے قتل عام کے وقت سارے قبائلی علاقوں میں لشکر تیار ہوئے بارڈر پر مسلمانوں کی مدد کرنے کیلئے، جب پختونستان کی تحریک چلی تو قبائلی علاقے نے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا، امریکیوں کے کہنے پر ہم نے قبائلی علاقوں میں فوج بھیجی جو سب سے بڑی حماقت تھی، سب سے زیادہ انگریز فوجی وزیرستان میں مرا تھا، انگریز ان پر قابو نہ پا سکا تو ہم نے اپنی فوج وہاں بھیج دی،فوجی آپریشن کے بعد وہ لوگ بدلہ لینے کیلئے کھڑے ہو گئے، ہم نے فوج اور قبائلیوں کو لڑا دیا، یہ بہت بڑا جرم کیا گیا،وہ ہفتہ کو یہاں فاٹا کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ اپنے قبائلی بھائیوں کا جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے، ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میں آپ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ جب تک میں نہ کہوں نعرے نہیں مارنے، زیادہ تر پاکستانیوں کو قبائلی علاقے کی سمجھ نہیں ہے، قبائلی علاقہ 1948میں قائد اعظم کو قائلیوں نے پشاور ہاؤس آ کر ملے اور فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان کا حصے بنے، فوج نے قبائلی علاقے کو فتح نہیں کیا تھا، انہوں ن ے فیصلہ کیا کہ 44پاکستانی قانون قبائلی علاقے میں لاگو ہوں گے، جب تک نائن الیون نہیں ہوا،

قبائلی علاقہ پاکستان کا سب سے پر امن علاقہ تھا، 1935سے انگریز گورنر نے کہا کہ جتنے پشاور میں ایک ہفتے میں جرم ہوتے ہیں اتنے قبائلی علاقوں میں سارے سال میں نہیں ہوتے، ان کا انصاف کا نظام ٹھیک تھا، اس لئے جرم نہیں تھے، جب سوات اور دیر پاکستان کا حصہ بنے تو سال کے قتل دس سے بھی کم تھے، جب پاکستان کے قانون وہاں لاگو ہوئے تو قتل بڑھ گئے، پھر نفاذ شریعت کی تحریک چلی جس میں وہ پرانا سسٹم مانگ رہے تھے قبائلی، قبائلیوں نے کشمیر میں اپنی جانیں دی تھیں،

پنجاب میں مسلمانوں کے قتل عام کے وقت سارے قبائلی علاقوں میں لشکر تیار ہوئے بارڈر پر مسلمانوں کی مدد کرنے کیلئے، جب پختونستان کی تحریک چلی تو قبائلی علاقے نے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا، کبھی کسی کو قبائلیوں کے پیار پر شک نہیں ہونا چاہیے، اس علاقے کو پاکستان کو حصہ بننا چاہیے تھا اور وہاں ترقی ہوئی، وزیرستان میں تانبہ، گیس، تیل کے وسیع ذخائر ہیں، آج یہ حال ہے کہ 73فیصد قبائلی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، یہ علاقہ سب سے پیچھے رہ گیا ہے، حکومتوں کی یہ ناکامی ہے،

نائن الیون کے بعد جوان لوگوں سے ہوا اس کی مثال نہیں ملتی، قبائلیوں کا پورا نظام تھا، ہم نے امریکیوں کے کہنے پر وہاں فوج بھیجی جو سب سے بڑی حماقت تھی، سب سے زیادہ انگریز فوجی وزیرستان میں مرا تھا، انگریز ان پر قابو نہ پا سکا تو ہم نے اپنی فوج وہاں بھیج دی، ہم نے اپنی قوم اور قبائلیوں پر ظلم کیا، فوجی آپریشن کے بعد وہ لوگ بدلہ لینے کیلئے کھڑے ہو گئے، ہم نے فوج اور قبائلیوں کو لڑا دیا، یہ بہت بڑا جرم کیا گیا، لاکھوں لوگ نقل مکانی کر گئے جن کو ہر صوبے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا،ان کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالا گیا،

ان کے شناختی کارڈ اپنے ملک میں بلاک کر دیئے گئے، ان کی کوئی آواز نہ تھی، اس ظلم کے بعد آج کا کنونشن ضروری ہے، لوگوں سے جھوٹ بولا گیا کہ ڈورن حملے میں دہشت گرد مر رہے ہیں، بیرون ملک سے لوگ آئے جن کے ادارے ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے قبائلیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کیلئے ۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں آج تباہی مچی ہوئی ہے، ان علاقوں میں ڈویلپمنٹ ضروری ہے، ان کا نظام ختم ہو گیا ہے، اگر اس خلاء کو پر نہ کیا گیا اور کے پی کے کا حصہ نہ بنایا گیا تو دہشت گردی پھر واپس آ سکتی ہے، کے پی کے کی اسمبلی کا قبائلیوں کو حصہ بننا چاہیے، ان کی آواز ہو جائے گی اسمبلی میں، قبائلیوں کا پرانا بلدیاتی نظام ہے، ہر گاؤں میں انصاف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…