جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

جانتے ہیں کہ یہ سب اس لئے ہو رہا تاکہ۔۔ سپریم کورٹ نے دھرنے والوں سے متعلق ایسی بات کہہ دی کہ انہیں ہلا کر رکھ دیا

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )اپنی شہرت کیلئے سب کچھ ہو رہا ہے تاکہ نام بن جائے، لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے، راستہ بند کرنے کا ایک حوالہ دے دیں، پاکستان کو دلائل کی بنیاد پر بنایا گیا ، ڈنڈے کے زور پر صحیح بات اچھی نہیں لگتی، احکام الٰہی پر عمل نہیں ہو رہا اور ریاست کا سر جھکا ہوا ہے، پنجاب حکومت نے حالات سے آگاہ ہونے کے باوجود کوئی اقدامات نہیں اٹھائے، ریاستی اداروں کا

کردار نظر نہیں آیا، دھرنے والوں کو چائے، کھانا اور موبائل سگنل کہاں سے آرہے ہیں، گولیاں نہ برسائیں مگر ان کی سہولیات بند کر دی جائیں، شرعی معاملے کو شرعی عدالتوں میں لایا جائے جو موجود ہیں، فیض آباد میں تحریک لبیک کے دھرنے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے ریمارکس۔ تفصیلات کے مطابق فیض آباد میں تحریک لبیک کے دھرنے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے انتظامیہ پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے کیس کی سماعت کرتےہوئے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپنی شہرت کے لیے سب کچھ ہو رہا ہے تاکہ نام بن جائے ،لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کرتے ہوئے جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ راستہ بند کرنے کا ایک حوالہ دے دیں جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسلام میں کہیں بھی ایسا نہیں لکھا۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب دلیل کی بنیاد ہی ختم ہو جائے ،ڈنڈے کے زور پر صحیح بات اچھی نہیں لگتی، پاکستان کو دلائل کی بنیاد پر بنا یا گیا۔ احکام الٰہی پر عمل نہیں ہو رہا اور ریاست کا سر جھکائے کھڑی ہے جب ریاست ختم ہو جائے گی تو تب فیصلے سڑکوں پر ہونگے۔ جسٹس مشیر عالم کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت تمام حالات سے آگاہ تھی لیکن اس نے کوئی اقدامات نہیں کئے، ریاست کے اداروں کا کردار نظر نہیں آرہا،

جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ دھرنے والوں کو سہولیات کہاں سے مل رہی ہیں، یہ چائے، کھانا اور موبائل سگنل کہاں سے آرہے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ گولیاں برسا دی جائیں لیکن دھرنے والوں کی سہولیات بند کر دی جائیں۔ جس زبان کا دھرنے میں استعمال ہو رہا ہے اس کی اسلام ہر گز اجازت نہیں دیتا۔ جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اگر شرعی معاملہ تو شرعی عدالتوں میں لایا جائے جو کہ پاکستان میں موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…