منگل‬‮ ، 16 جون‬‮ 2026 

دنیا بھر کی کمپنیاں ایک بار پھر سائبر حملے کی زد میں

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(ویب ڈیسک) دنیا بھر کی متعدد کمپنیوں کا کہنا ہے کہ انھیں ‘رینسم ویئر’ نامی سائبر حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے جن میں برطانوی تشہری ایجنسی ڈبلیو پی پی بھی شامل ہے۔ برطانوی تشہری ایجنسی ڈبلیو پی پی کا کہنا ہے کہ اس سائبر حملے سے اس کا آئی ٹی نظام متاثر ہوا ہے۔

یوکرائن کی کمپنیاں اس سائبر حملے سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ وانا کرائی وائرس کے پیچھے ’ممکنہ طور پر شمالی کوریا‘کیا آپ کا کمپیوٹر خطرے میں ہے؟ ادھر امریکہ کی قومی سلامتی کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومتی ایجنسیاں اس سائبر حملے کی تحقیقات کر رہی ہیں اور ‘امریکہ اس کے ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرانے کے لیے پر عزم ہے۔’امریکہ کی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس وائرس کا معاوضہ ادا نہ کریں کیونکہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ادائیگی کے بعد ان کی فائلز تک رسائی بحال ہو جائے گی۔روس کی اینٹی وائرس کمپنی کیسپرسکائی لیب کا کہنا ہے کہ تجزیوں سے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ اس وائرس سے دنیا بھر میں تقربیاً 2,000 سائبر حملے کیے گئے ہیں جن میں یوکرین، روس اور پولینڈ بھی شامل ہیں۔ انٹرپول کا کہنا ہے کہ وہ اس صورتِ حال کا ‘قریبی جائزہ’ لینے کے ساتھ ساتھ ممبر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔ اس سائبر حملے سے سب سے زیادہ یوکرائن متاثر ہوا ہے جہاں توانائی کی تقسیم کے سرکاری ادراوں اور بینک کے کمپیوٹر نظام سمیت کئی کمپنیاں بری طرح اس حملے کا نشانہ بنیں۔ دارالحکومت کیف کی میٹرو میں ادائیگیاں کرنے والے کارڈ سسٹم کام نہیں کر رہے جبکہ بہت سے پٹرول سٹیشنوں کو اپنا کام بند کرنا پڑا ہے۔ روس کی تیل پیدا کرنے والی کمپنی رازنیٹ اور ڈینش شپنگ کمپنی ميرسک نے بھی تکنیکی خرابی

کی شکایت کی ہے۔اس کے علاوہ کوپن ہیگن سے چلائی جانے والی کمپنی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا: ’ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ بہت سے کاروباری یونٹس پر ميرسک کا آئی ٹی نظام ایک سائبر حملے کی وجہ سے کام نہیں کر رہا ہے۔ ہم حالات کا اندازہ لگا رہے ہیں اور ہمارے ملازم، آپریشنز اور صارفین کے کاروبار کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔’سپین کے میڈیا نے خبر دی ہے کہ بہت سی ملٹی نیشنل کمپنیوں جیسے مانڈیلیز اور قانونی کمپنی ای ایل اے پائپر بھی اس سائبر حملے کی زد میں ہیں۔ تعمیراتی سامان بنانے والی فرانسیسی کمپنی سینٹ گوبین نے بھی کہا ہے کہ وہ سائبر حملے سے متاثر ہوئی ہے۔ یوکرین کے نائب وزیر اعظم نے ایک تصویر ٹوئٹر پر شیئر کی ہے جس میں سسٹم کی خرابی کی اطلاع نظر آرہی ہے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل بھی گذشتہ ماہ دنیا بھر کی کمپنیاں ایسے ہی ایک سائبر حملے کا نشانہ بنی تھیں۔ اس وقت امریکہ، برطانیہ، چین، روس، سپین، اٹلی اور تائیوان سمیت 99 ملکوں میں رینسم ویئر کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔رینسم ویئر وہ کمپیوٹر وائرس ہوتا ہے جس کی مدد سے وائرس کمپیوٹر یا فائلیں لاک کر دیتا ہے اور اسے کھولنے کا معاوضہ مانگا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…