جمعرات‬‮ ، 25 جون‬‮ 2026 

فیس بک اب طلاق کے قانونی نوٹس بھی بھیجا کریگی

datetime 7  اپریل‬‮  2015 |

نیویارک (نیوز ڈیسک) فیس بک کے ہوم پیج پر دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ آپ کو دوسروں سے جوڑ کے رکھنے کا ذریعہ ہے۔یہ بھی حقیقت ہے اور ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے سے جوڑنے والے شادی کے بندھن کے باقاعدہ خاتمے کیلئے بھی اب فیس بک کا استعمال کیا جائے گا۔ نیویارک سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے عدالت کی جانب سے باقاعدہ اجازت کے بعد فیس بک میسنجر کے ذریعے اپنے شوہر کو طلاق کیلئے قانونی نوٹس بھجوایا ہے۔اس سلسلے میں مین ہیٹن سپریم کورٹ کے جج میتھیو کوپر نے اجازت دی ہے۔ ضابطے کی کارروائی کے تحت فیس بک کے ذریعے مسلسل تین ہفتوں تک شوہر وکٹر سینا کو حاضری کا نوٹس بھیجاجائے گا۔ اس دوران اگر شوہر کی جانب سے نوٹس موصول ہونے کی تصدیق یا اس پر ردعمل سامنے آیا تو کارروائی آگے بڑھی گی، دوسری صورت میں خاتون جن کا ناما ایلانورا بتایا گیا ہے، جلد ہی اپنے حق میں فیصلہ لینے میں کامیاب ہوجائے گی۔ اس جوڑے نے2009 میں سول تقریب میں شادی کی تھی۔ وکٹر سینا نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایلانورا کی خوشی کی خاطر گھانا کے روایتی شادی کے طریقے کے مطابق بھی تقریب منعقد کرے گا تاہم ایسا نہ ہوا۔ اس دوران وکٹر نے ایلانورا سے محض فون اور فیس بک کے ذریعے ہی رابطہ قائم رکھا اور دونوں کے بیچ کا یہ بندھن محض کاغذی کارروائی تک ہی محدود رہا گیا۔ فیس بک کے ذریعے قانونی نوٹس بھیجے جانے کی وجہ سینا کے گھر کے پتے کی عدم دستیابی ہے۔ ایلانورا کے پاس سینا کا جو آخری پتہ ہے، وہ ایک فلیٹ کا ہے جسے سینا 2011میں خالی کرچکے ہیں۔ ایلانورا کی جانب سے گھر کا پتہ مانگنے پروکٹر کا دعویٰ رہا ہے کہ ان کا کوئی مستقل پتہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کے کام کرنے کا کوئی مستقل ٹھکانہ ہے، اس لئے وہ کوئی بھی پتہ دینے سے قاصر ہیں۔ ایلانورا نے شادی کے خاتمے کے بارے میں بھی وکٹر سے بات کی تھی تاہم انہوں نے اس مقصد کیلئے بھی ملاقات سے انکار کردیا جس پر ایلانورا نے عدالت سے رجوع کیا جس نے اس کیس کو خصوصی کیس قرار دیتے ہوئے فیس بک کو ڈاک کی ترسیل کا ذریعہ بنانے کا منفرد فیصلہ دیا۔ عدالتی فیصلے مین کہا گیا ہے کہ وکٹر کے پریپیڈ سیل نمبر پر گھر کا کوئی پتہ موجود نہیں ہے، ڈپارٹمنٹ آف موٹر وہیکلز کے پاس بھی اس کا کوئی پتہ درج نہیں جبکہ ڈاک خانے کے پاس بھی اس کی ڈاک کو بھیجنے کیلئے کوئی پتہ موجود نہیں ہے، ایسے میں عدالت کے پاس وکٹر کو ڈاک بھجوانے کیلئے اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں کہ وہ فیس بک کو استعمال میں لائے۔ وکٹر نے پہلے نوٹس کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…