منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

کراچی ، فائرنگ ، ڈی ایس پی ٹریفک ڈرائیور سمیت شہید

datetime 11  اگست‬‮  2017 |

کراچی (آئی این پی)شہر قائد کے علاقے عزیز آباد میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس(ڈی ایس پی) ٹریفک اور ان کے ڈرائیور شہید ہوگئے،واقعے کی اطلاع ملتے ہی ہولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکار جائے وقوع پر پہنچے اور شواہد اکٹھے کرکے تفتیش کا آغاز کردیا گیا جبکہ وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال نے ٹریفک پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا نوٹس لے لیا اور فائرنگ کے نتیجے میں ٹریفک پولیس کے ڈی ایس پی حنیف اور اہلکار سلطان

کی شہادت کے واقعے پر سخت غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے اے آئی جی غلام قادر تھیبو سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرلی۔ جمعہ کو سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی)سینٹرل مقدس حیدر کے مطابق موٹرسائیکل سوار مسلح ملزمان نے عزیرآباد کے علاقے حسین آباد میں ڈی ایس پی ٹریفک پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی حنیف اور ان کے ڈرائیور سلطان شہید ہوگئے۔مقتولین کی لاشوں کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کردیا گیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ہولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکار جائے وقوع پر پہنچے اور شواہد اکٹھے کرکے تفتیش کا آغاز کردیا گیا۔دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال نے ٹریفک پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا نوٹس لے لیا اور فائرنگ کے نتیجے میں ٹریفک پولیس کے ڈی ایس پی حنیف اور اہلکار سلطان کی شہادت پر سخت غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل(اے آئی جی)غلام قادر تھیبو سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرلی۔وزیر داخلہ سندھ کی جانب سے شہر بھر میں سیکورٹی ہائی الرٹ رکھنے اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم بھی دے دیا گیا۔بعدازاں ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو نے جائے وقوع کا دورہ کیا اور صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ جائے وقوع سے 9 ایم ایم گولیوں کے خول ملے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں کراچی میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے جو 2 واقعات ہوئے ہیں، ان کے ملزمان کو پکڑا جاچکا ہے، ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈی ایس پی کو نشانہ بنانے والے ملزمان کو بھی جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…