کوئٹہ (این این آئی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثارنے ہے کہ دہشگردی کے خلاف جنگ پوری قوم کو متحد ہو کرجذبے سے لڑنی ہے دہشتگر دی ملک کو کمزور اور پا کستان کے امن کو تباہ کر نے کی سازش ہے دہشتگردی میں ہو نے والی کمی عوام بالخصوص کوئٹہ کے لوگوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے ،سانحہ 8 اگست کے شہداء نے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کر کے ملک کی پا سداری کے لئے جو مثال قائم کی ہے اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ،
وہ بلوچستان ہائی کورٹ کوئٹہ میں شہداء 8اگست کی پہلی برسی کے موقع پر منعقدہ تعزیتی ریفر نس سے خطاب کررہے تھے ،تقر یب سے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ محمد نور مسکانزئی،چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ یحیی آفریدی، چیف جسٹس گلگت بلتستان ہائی کورٹ رانا محمد شمیم،سپریم کورٹ کے ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس گلزار احمد ،وائس چےئر مین بلوچستان بار کونسل حاجی عطااللہ لانگو ،کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر کمال خان کاکڑ،پاکستان بار کونسل کے چےئرمین چوہدری عبدالحفیظ، صدر سپریم کورٹ بار ایسوی ایشن رشید اے رضوی،سپریم کورٹ بار کونسل کے جنرل سیکرٹری آفتاب باجوہ،پشاور ڈسرکٹ بار کے صدر فضل واحد،چےئرمین کے پی کے بار کونسل سیدزاہد جمال باچا ،پشاور بار کونسل کے صدر ارباب عثمان، وائس چےئرمین اسلام آباد بار کونسل قاضی رفیع الدین بابر،وائس چےئرمین پاکستان بار کونسل احسن لون ،وکلا رہنما عاصمہ جہانگیر، رشید اے رضوی، لطیف آفریدی، احمد اویس نے بھی خطاب کیا۔تقریب میں موجود تما م حاضرین اس وقت اشک بار ہوگئے جب سانحہ8 اگست میں شہید ہونے نور اللہ رخشانی ایڈوکیٹ کی کمسن بیٹی نے خطاب کیا ،چیف جسٹس آف پا کستان نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ کمسن بچی کا سوال بحیثیت منصف اعلی میرے لیئے پریشانی کا باعث ہے میرے پاس الفاظ نہیں, میری زبان میرا ساتھ نہیں دے رہی،
انہوں نے کہا کہ سانحہ 8 اگست کے ہر شہید کے گھر گیا اور انکی دلجوئی کی شہدا اس ملک کیلئے نئی جہد اور تاریخ قائم کرگئے ہم جانے والوں سے اپنا تعلق ختم نہیں کرسکتے, وہ ہمیشہ ہماری یادوں میں جیتے ہیں, سانحہ آٹھ اگست نے ناصرف اہل خانہ سے انکے پیاروں کو چھینا بلکہ بار کو بھی ویران کردیا انہوں نے کہا کہ وکیل ایک دن میں نہیں بنتا, برسوں کی محنت درکار ہوتی ہے اور بلوچستان کے سنےئر وکلا ء کی شہادت کے بعد یہ بار مجھے ملفوج نظر آرہی ہے سینئر وکلا آگے آکر نوجوانوں کو سکھائیں,
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا تعلق پاکستان کے وجود سے ہے ہمارا ملک دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آیاہے یہ ملک بغیر قربانیوں کے حاصل نہیں کیا گیایہ ملک بے شمار قربانیوں کا ثمر ہے,لیکن دشمنوں کو یہ ایک آنکھ نہیں بھاتا ہمیں ملکر دہشتگردی کو شکست دینا ہوگی ورنہ آئندہ نسلوں کو کچھ نہیں ملے گاانہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں دہشتگردی کے واقعات رونماہوئے ہمیں دہشتگردی کے خلاف جنگ کو بھر پور حوصلے سے لڑنا ہے اور ہر ادارے کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنا حصہ ڈالنا ہے
انہوں نے کہا کہ فوج عدلیہ اور تفتیشی اداروں کو اپنی بساط کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا ہوگا دہشتگردی میں ہونے والی کمی عوام بالخصوص کوئٹہ کے لوگوں کی قربانیوں سے ملتی ہے انہوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے سانحہ سول پر کمیشن کی جامعہ رپورٹ مرتب کی انہوں نے کہا کہ ہم ججز اور عدالتوں کی سیکورٹی کیلئے امریکی سسٹم رائج کرنے پر غور کررہے ہیں,ملک بھر کی عدالتوں کے سیکورٹی پلان پر بنچ اور بار کا مکمل تعاون درکار ہوگا,
جوڈیشل اکیڈمیز میں میں ججز کے ساتھ وکلا کو بھی تربیت فراہم کی جارہی ہے انہوں نے اکیڈمیز اور بار پر زور دیا کہ وہ فیصلوں پر مشتمل کتب مرتب کریں،تقر یب سے خطا ب کر تے ہوئے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ محمد نور مسکانزئی،چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ یحیی آفریدی، چیف جسٹس گلگت بلتستان ہائی کورٹ رانا محمد شمیم،سپریم کورٹ کے ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس گلزار احمد ،وائس چےئر مین بلوچستان بار کونسل حاجی عطااللہ لانگو ،کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر کمال خان کاکڑ
،پاکستان بار کونسل کے چےئرمین چوہدری عبدالحفیظ، صدر سپریم کورٹ بار ایسوی ایشن رشید اے رضوی،سپریم کورٹ بار کونسل کے جنرل سیکرٹری آفتاب باجوہ،پشاور ڈسرکٹ بار کے صدر فضل واحد،چےئرمین کے پی کے بار کونسل سیدزاہد جمال باچا ،پشاور بار کونسل کے صدر ارباب عثمان، وائس چےئرمین اسلام آباد بار کونسل قاضی رفیع الدین بابر،وائس چےئرمین پاکستان بار کونسل احسن لون ،وکلا رہنما عاصمہ جہانگیر، رشید اے رضوی، لطیف آفریدی، احمد اویس نے کہا کہ
بلوچستان ایک دہائی سے دہشتگردی کا شکار ہے, مذموم سازش کے تحت عوام کو نشانہ بنایا جارہاہے سانحہ 8 اگست انصاف کے علمبردارواں پر سب سے بڑا حملہ تھاحملے کا مقصد عدالتی نظام کو غیر مستحکم کرنا تھا دہشتگردی کے اس واقعہ کے بعد قومی اتحاد، یکجہتی کا عملی مظاہرہ دیکھادہشتگردی پر مکمل قابو پانے کیلئے تمام اداروں کی مضبوطی ناگزیر ہے,مقررین نے کہا کہ ہمارے شہید وکلا آج ہمیں متحد دیکھ کر انتہائی خوش ہونگے اب بلوچستان کے وکلا پر بڑی ذمہ داری عائد ہوگئی ہے کہ وہ
عوام کو انصاف دلانے کیلئے تمام کاوشیں بروئے کار لائیں مقر رین نے کہا کہ سانحہ 8 اگست سے متعلق سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی نے جامعہ رپورٹ مرتب کی کمیشن کی رپورٹ پر عملدرامد ہوتا تو دہشتگردی کے دیگر واقعات رونما نہ ہوتے پاکستان کی سالمیت بلوچستان کے امن سے وابستہ ہے وفاقی اور صوبائی حکومت وکلا کی سیکورٹی کیلئے اقدامات کرے،قانون کی بالادستی سے نظام قائم رکھاجاسکتا ہے وکلا نے ہمیشہ قانون کی بالادستی کو قائم رکھنے کیلئے جدوجہد کی ضرورت پڑی تو ایک بار پھر قانونی کی بالادستی کیلئے باہر نکلیں گے،مقررین نے حکو مت سے مطا لبہ کیا کہ وہ سانحہ آٹھ اگست کے شہدا کے لئے کئے گئے اعلانات کو پورا کرے ۔



















































