اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

انسانسی صحت کے لیے شیشہ سگریٹ سے زیادہ خطر ناک

datetime 22  مارچ‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )جہاں سگریٹ اور حقہ انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں وہیں اب دورجدید میں استعمال ہونے والے حقے کی شکل کے نشے”شیشہ“ کو سگریٹ سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا گیا ہے جو انسان کو تیزی سے موت کی طرف لے جاتا ہے۔ابو ظہبی میں ہونے والی ورلڈہیلتھ کانفرنس میں ماہرین صحت کا کہنا تھا کہ شیشے کے ایک کش سے جتنا دھواں انسانی جسم کے اندر جاتا ہے وہ پوری سگریٹ پینے کے برابر ہوتا ہے کیونکہ پورا شیشہ یا واٹر پائپ کا ایک سیشن 20 سے 30 سگریٹ پینے کے برابر ہوتا ہے جو کہ انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ واٹر پائپ یا شیشہ نوجوانوں کے لیے زیادہ پرکشش ہے اور اس میں موجود فلیور پینے والوں کو ایسا ذائقہ دیتا ہے جو روایتی سگریٹ کے مقابلے میں زیادہ قابل برداشت ہوتا ہے اور اسے ہرکوئی بآسانی استعمال کرسکتا ہے۔ ماہرین کے نزدیک جب عام طور پر لوگ سماجی محفلوں میں اکٹھے ہوکر سگریٹ یا شیشہ پیتے ہیں تو نیکوٹین زیادہ مقدار میں جسم میں داخل ہوتی ہے جب کہ تمباکو کو گرم کرنے والا کارکول جس میں زہریلا ٹوکسن موجود ہوتا ہے سانس سے جسم میں داخل ہوکر نظام تنفس کو نقصان پہنچاتا ہے۔ادارہ برائے صحت نے خبردار کیا ہے کہ شیشے سے انسان کا نظام تنفس، دل کا نظام، گلہ اور دانت بری طرح متاثر ہوتے ہیں جب کہ ایک تازہ سروے میں کہا گیا ہے کہ سگریٹ اور شیشہ پھیپھڑوں کے کینسر، غذائی نالی اوسوفیگس کی خرابی، گیسٹرک اور پیشاب کی بیماریوں کا بھی باعث بنتا ہے۔شیشہ کو پوری دنیا میں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے جس میں ہکا، ہبلی ببلی اور نارگیلھ شامل ہیں جس کے بارے میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ نوجوانوں بالخصوص یونیورسٹی کے نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہورہا ہے اور اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق شہروں میں 18 سے 24 سال کے نوجوانوں شوق سے شیشے کا استعمال کر رہے ہیں جو انہیں موت کے قریب لے جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…