جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

کیا انگلیوں میں پتھر پہنناجائز ہے ؟ حضور ﷺ کی سنت اس بارے میں ہمیں کیا بتاتی ہے ؟ ایمان افروز تحریر

datetime 14  ستمبر‬‮  2017 |

ایک نجی ٹی وی چینل پر معلوماتی پروگرام میں ایک سائل کی جانب سے سوال پوچھا کیا گیا کہ انگلیوں میں پہننے والے پتھر اور نگینوں کی افادیت کے حوالے سے اسلام ہماری کیا رہنما ئی کرتا ہے؟ کیا یہ پتھر تقدیر بدلنے اور نفع دینے کی طاقت رکھتے ہیں؟مفتی صاحب نے سائل کا جواب دیتے ہوئے وضاحت فرمائی کہ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدھے ہاتھ کی انگلی میں عقیق پہنا ہے اور زیادہ تر یمنی عقیق استعمال کیا ہے تاہم یہ صرف زیبائش کے لیے تھا

اس لیے عقیق کو محض پیروی رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں پہننا چاہیے نا کہ کسی نفع کے حصول کی نیت سے پہنا جائے۔مفتی صاحب نے کہا کہ عقیق ہو یا کوئی اور پتھر ہو وہ محض پتھر ہی ہیں جو نہ تو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کا نقصان پہنچانے طاقت یا صلاحیت رکھتے ہیں اس لیے پتھروں اور نگینوں کی نفع پہنچانے کی باتیں جیسے فلاں پتھر رزق میں فراوانی کا باعث ہوتا ہے اور فلاں سے تقدیر بدل جاتی ہے یا فلاں پتھر زیادہ فائدہ مند ہے بے بنیاد ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مفتی صاحب نے مذید کہا کہ اللہ اپنے آخری کلام میں انسانوں کو یہی پیغام دیتا ہے کہ سب کا کارساز اور کاتب تقدیر وہی ایک ذات ہے جو انسان کی شہ رگ سے بھی قریب ہے وہی آسمان سے بارش برساتا ہے اور زمین سے غلہ اگاتا ہے اور جسے چاہتا ہے رزق کشادہ کر کے دیتا ہے اور جسے چاہے اولاد سے نوازے اور جسے چاہے محروم رکھے۔مفتی صاحب نے بتایا کہ اللہ اپنے کلام میں واضح فرماتے ہیں کہ ’’ انسان کو اتنا ہی ملتا ہے جتنی اس نے کوشش کی ہو تی ہے‘‘ یعنی اللہ چاہتے ہیں کہ انسان کامیابی کے لیے اپنے علم، ہنر اور ذور بازو پر بھروسہ کرے ناکہ بے جان پتھروں پر تکیہ کیے بیٹھا رہے اور جدوجہد سے عاری زندگی گذار دے۔مفتی صاحب کا کہنا تھا کہ انگلی میں پہنی گئے کسی بھی پتھر کی تاثیر گرم و سرد ہوسکتی ہے جو اگر جسم کی کھال سے مس ہو

تو دورانِ خون میں یہ اثرات گردش کر سکتے ہیں جس کے جسم پر اثرات بھی مرتب ہو سکت ہیں تاہم یہ بھی اس صورت میں ہوسکتا ہے جب پتھر اصلی ہو اور جلد سے مَس بھی ہو رہا ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…