منگل‬‮ ، 16 جون‬‮ 2026 

شمالی کوریا شام کی حمایت میں کھڑا ہوگیا،امریکہ کو چیلنج

datetime 9  اپریل‬‮  2017 |

پیانگ یانگ(آئی این پی)شمالی کوریا نے امریکا کے شام پر میزائل حملوں کو ناقابل برداشت جارحیت قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے لاکھوں مرتبہ یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اس کا جوہری پروگرام کو مضبوط بنانا ہی ایک درست راستہ تھا۔شمالی کوریا کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شام کے ایک ائیربیس پر میزائل حملے کا حکم جاری کرنے کے بعد یہ پہلا ردعمل ہے۔امریکا نے شامی فضائیہ کے گذشتہ

منگل کو شمال مغربی صوبے ادلب میں واقع قصبے خان شیخون پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے ردعمل میں یہ میزائل حملہ کیا ہے۔شمالی کوریا کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے سی این اے نے وزارت خارجہ کے ایک بے نامی ترجمان کا بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ شام پر امریکا کا میزائل حملہ ایک خود مختار ریاست کے خلاف واضح اور ناقابل برداشت جارحانہ اقدام ہے اور ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ آج کی حقیقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں طاقت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہیے اور اس سے لاکھوں مرتبہ یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ ہمارا جوہری سد جارحیت کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کا فیصلہ ایک درست انتخاب ہے۔قبل ازیں تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ شام میں فوجی اڈے پر میزائل حملے شمالی کوریا کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہیں کہ امریکا فوجی طاقت کے استعمال کا آپشن استعمال کرنے کے لیے کوئی خوف زدہ نہیں ہوا اور یہ قیاس آرائیاں بھی کی جارہی تھیں کہ شمالی کوریا ان امریکی حملوں پر کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں شمالی کوریا کے خلاف یک طرفہ اقدام کی بھی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ اگر بیجنگ اپنے ہمسائے کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر قدغنیں لگانے کے لیے کسی مدد میں ناکام رہتا ہے تو شمالی کوریا کے خلاف یک طرفہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔تاہم شمالی کوریا کے ردعمل سے ظاہر ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر کام جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔وزارت خارجہ کے

ترجمان کا کہنا تھا کہ سپر طاقت امریکا ان ممالک پر چڑھ دوڑتا رہا ہے جن کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے۔ٹرمپ انتظامیہ کو بھی اس معاملے میں کوئی استثنا حاصل نہیں ہے۔شام پر حملہ ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ استعمار کے بارے میں کسی قسم کا التباس بہت ہی خطرناک ہوگا اور صرف ہماری فوجی طاقت ہی ہمیں استعمال کی جارحیت سے بچا سکتی ہے۔ ہم مختلف طریقوں سے اپنے فوجی دفاع کو مضبوط بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاکہ ہم امریکا کی جارحانہ کارروائیوں کا مقابلہ کرسکیں۔واضح رہے کہ شمالی کوریا اب تک پانچ جوہری تجربات کرچکا ہے۔ان میں سے دو اس نے گذشتہ سال کیے تھے۔ خلائی سیارے سے لی گئی تصاویر کے مطابق وہ چھٹے جوہری تجربے کی بھی تیاری کررہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…