جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

شمالی کوریا شام کی حمایت میں کھڑا ہوگیا،امریکہ کو چیلنج

datetime 9  اپریل‬‮  2017 |

پیانگ یانگ(آئی این پی)شمالی کوریا نے امریکا کے شام پر میزائل حملوں کو ناقابل برداشت جارحیت قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے لاکھوں مرتبہ یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اس کا جوہری پروگرام کو مضبوط بنانا ہی ایک درست راستہ تھا۔شمالی کوریا کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شام کے ایک ائیربیس پر میزائل حملے کا حکم جاری کرنے کے بعد یہ پہلا ردعمل ہے۔امریکا نے شامی فضائیہ کے گذشتہ

منگل کو شمال مغربی صوبے ادلب میں واقع قصبے خان شیخون پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے ردعمل میں یہ میزائل حملہ کیا ہے۔شمالی کوریا کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے سی این اے نے وزارت خارجہ کے ایک بے نامی ترجمان کا بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ شام پر امریکا کا میزائل حملہ ایک خود مختار ریاست کے خلاف واضح اور ناقابل برداشت جارحانہ اقدام ہے اور ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ آج کی حقیقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں طاقت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہیے اور اس سے لاکھوں مرتبہ یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ ہمارا جوہری سد جارحیت کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کا فیصلہ ایک درست انتخاب ہے۔قبل ازیں تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ شام میں فوجی اڈے پر میزائل حملے شمالی کوریا کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہیں کہ امریکا فوجی طاقت کے استعمال کا آپشن استعمال کرنے کے لیے کوئی خوف زدہ نہیں ہوا اور یہ قیاس آرائیاں بھی کی جارہی تھیں کہ شمالی کوریا ان امریکی حملوں پر کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں شمالی کوریا کے خلاف یک طرفہ اقدام کی بھی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ اگر بیجنگ اپنے ہمسائے کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر قدغنیں لگانے کے لیے کسی مدد میں ناکام رہتا ہے تو شمالی کوریا کے خلاف یک طرفہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔تاہم شمالی کوریا کے ردعمل سے ظاہر ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر کام جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔وزارت خارجہ کے

ترجمان کا کہنا تھا کہ سپر طاقت امریکا ان ممالک پر چڑھ دوڑتا رہا ہے جن کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے۔ٹرمپ انتظامیہ کو بھی اس معاملے میں کوئی استثنا حاصل نہیں ہے۔شام پر حملہ ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ استعمار کے بارے میں کسی قسم کا التباس بہت ہی خطرناک ہوگا اور صرف ہماری فوجی طاقت ہی ہمیں استعمال کی جارحیت سے بچا سکتی ہے۔ ہم مختلف طریقوں سے اپنے فوجی دفاع کو مضبوط بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاکہ ہم امریکا کی جارحانہ کارروائیوں کا مقابلہ کرسکیں۔واضح رہے کہ شمالی کوریا اب تک پانچ جوہری تجربات کرچکا ہے۔ان میں سے دو اس نے گذشتہ سال کیے تھے۔ خلائی سیارے سے لی گئی تصاویر کے مطابق وہ چھٹے جوہری تجربے کی بھی تیاری کررہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…