بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

ایک مؤذن کا عبرتناک انجام

datetime 6  جنوری‬‮  2019 |

ایک مؤذن عصر کی جامع مسجد میں اذان دیا کرتا تھا۔ ظاہر میں وہ دین کا کام کرنے والا تھا لیکن اس کے دل میں خوفِ خدا نہ رہا۔ اس کے دل میں فسق و فجور بھر چکا تھا۔ ایک دفعہ وہ اذان دینے کے لیے مصر کی اس مسجد کے مینار پر چڑھا۔ مینار کے ادھر ادھر مکانات تھے۔

ایک مکان میں اس کی نظر پڑی تو اسے کوئی خوبصورت لڑکی نظر آئی۔ اس کے دل پر ایسا اثر ہوا کہ اذان دینے کی بجائے وہ نیچے اترا اور اس گھر کے پاس جا کر معلومات لیں کہ یہ لڑکی کون ہے؟ کسی نے کہا کہ فلاں جگہ اس کا باپ ہے۔ یہ اس کے پاس گیا۔ معلومات لیں کہ آپ کون ہیں؟ اس نے کہا کہ ہم عیسائی ہیں اور یہاں نئے آ کر بسے ہیں۔ ابھی ایک دن ہوا ہے کہ ہم یہاں آ کر ٹھہرے ہیں۔ اس نے کہا کہ اچھا میں چاہتا ہوں کہ میں آپ لوگوں کے ساتھ تعلقات رکھوں۔ اس عیسائی نے کہا کہ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ تمہیں ہمارے دین پر آنا پڑے گا۔ پھر میں اپنی بیٹی کا تمہارے ساتھ رشتہ بھی کر دوں گا۔ یہ بڑا خوش ہوا، کہنے لگا ٹھیک ہے۔ میں تمہارے دین کو قبول کر لیتا ہوں۔ عیسائی نے کہا میرے ساتھ آؤ۔ چنانچہ وہ اس کے ساتھ سیڑھیاں چڑھ کر مکان پر جانے لگا۔ ابھی چوتھی سے پانچویں سیڑھی چڑھ ہی رہا تھا کہ اس کا پاؤں پھسلا گردن کے بل نیچے گرا اور وہیں پر اس کی جان نکل گئی مینارے پر چڑھا تھا اذان دینے کے لیے مگر اللہ تعالیٰ کو اس کے اندر کا فسق و فجور ناپسند تھا جس کی وجہ سے پروردگار نے حالات ایسے بنا دیے کہ جب وہ مینار سے نیچے اترا، اس وقت وہ ایمان سے خالی ہو چکا تھا۔



کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…