جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

سرکاری عملے کو لگام ڈالنے کا فیصلہ،خیبرپختونخوامیں نئے نظام پرعملدرآمد شروع 

datetime 21  مارچ‬‮  2017 |

پشاور(آئی این پی )سینئر صوبائی وزیر صحت شہرام خان تراکئی نے کہا ہے خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے ،وقت کی پابندی نہ کرنے والے اور فرائض سے غفلت برتنے والے طبی عملے کے خلاف بروقت تادیبی کارروائی عمل میں لانے کے لئے ایک خود کار آن لائن نظام کا اجراء کر دیا گیا ہے جس کے ذریعے ایسے عملے کی تنخواہوں میں کٹوتی،شو کاز نوٹسز کے اجراء،وضاحت

طلبی اور دیگر تادیبی کارروائیاں ایک خود کار نظام کے ذریعے مقررہ وقت کے اندر عمل میں لائی جائیں گی۔آٹو میٹیڈ ایکشن مینجمنٹ سسٹم محکمہ صحت کے انڈیپنڈنٹ مانٹیرنگ یونٹ کے تحت شروع کیا گیا جس کا مقصد آئی ایم یو کی رپورٹس کی روشنی میں غیر حاضر رہنے والے اور وقت کی پابندی نہ کرنے والے عملے کے خلاف بروقت کارروائی عمل میں لا کر سرکاری ہسپتالوں میں خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔وہ منگل کو ہیلتھ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقدہ ایک تقریب میں کمپیوٹر کا بٹن دبا کر اس سسٹم کا باقاعدہ افتتاح کر رہے تھے ۔اس موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں عملے کی حاضریوں اور طبی آلات کی فراہمی کو یقینی بنانے میں انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم یو ٹیموں کی مسلسل اور موثر مانیٹرنگ کی وجہ سے ہسپتالوں میں عملے کی حاضریوں کی شرح میں بہت زیادہ بہتری آئی ہے اور اب اس آن لائن ایکشن مینجمنٹ سسٹم کے اجراء سے عملے کی حاضریوں کو سو فیصد یقینی بنایا جا سکے گا۔آئی ایم یو کی اب تک کی کارکردگی کا تذکرہ کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے بتایاکہ آئی ایم یو کا قیام سال2015 میں عمل میں لایا گیا تھا اور اب تک آئی ایم یو کی مانیٹرنگ ٹیمیں صوبہ بھر کے سرکاری ہسپتالوں کے کل58894دورے کر چکی ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ سال2015میں سرکاری ہسپتالوں میں

میڈیکل افسران کی حاضریوں کی شرح77فیصد تھی جو آئی ایم یو کی مانیٹرنگ ٹیموں کی مسلسل مانیٹرنگ کی وجہ سے اب90فیصد ہو گئی ہے جبکہ2015میں میڈیکل ٹیکنیشنز کی حاضریوں کی شرح 77فیصد تھی جو اب92فیصد ہو گئی ہے۔اسی طرح2015میں ثانوی درجے کے ہسپتالوں میں طبی آلات کی موجودگی کی شرح54فیصد تھی جو اب77فیصد ہو گئی ہے۔شہرام تراکئی نے کہا کہ آئی ایم یو کی رپورٹس پر اب تک8735ملازمین کے خلاف مختلف کارروائیاں عمل میں لائی گئی ہیں جن میں ملازمت سے برخواستگی ،تنخواہوں میں کٹوتی،وضاحت طلبی اور شوکاز نوٹسز کا اجراء وغیرہ شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ آئی ایم یو کی رپورٹس کی روشنی میں اب تک ملازمین کی تنخواہوں میں سے مجموعی طور پر ایک کروڑ ستر لاکھ روپے سے زائد کی کٹوتی کی گئی ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ محکمہ صحت کے تمام تر معاملات سے متعلق میڈیا اور عوام کو صحیح معلومات فراہم کی جا رہی ہیں اور کوئی بھی چیز چھپائی نہیں جا رہی ہے۔ہم اپنی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اپنی کمزوریوں کو بھی میڈیا کے سامنے رکھتے ہیں اور ان کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے اقدامات بھی کرتے ہیں جبکہ ماضی میں محکمے سے متعلق تمام معاملات میڈیا اور عوام سے چھپائے جاتے تھے۔انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ محکمے میں نظر آنے والی کمزوریوں کی ضرور نشاندہی کریں جو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا حصہ ہے مگر ساتھ ساتھ اس شعبے میں ہونے والے مثبت اور فلاحی اقدامات کے بارے میں بھی عوام کو آگاہ کریں۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…