بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب ،ملازمت کا جھانسہ دے کر خاتون کے ساتھ کیاشرمناک کام کیاجاتارہا؟لرزہ خیزانکشافات

datetime 21  مارچ‬‮  2017 |

ریاض /ممبئی(آئی این پی) ملازمت کا جھانسہ دے کر سعودی عرب میں جنسی کاروبار کے لیے فروخت کی گئی بھارتی خاتون کو بازیاب کرالیا گیا،دوسری جانب یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ بھارت میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد اپنے کاروبار کو مزید وسعت دے رہے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ خاتون کو ملازمت کا جھانسہ دے کر فروخت کرنے والے ایک ایجنٹ کو بھارتی

ریاست گجرات اور ایک کو ممبئی سے گرفتار کرلیا گیا، جب کہ دیگر ایجنسٹس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ایک سال قبل 35 سالہ خاتون کو ماہانہ 600 ڈالر یعنی 40 ہزار بھارتی روپے تنخواہ پر ملازمت دلوانے کا وعدہ کرکے دبئی لے جایا گیا تھا۔بھارت کے وزیر مملکت نے بتایا کہ خاتون کو بعد ازاں سعودی عرب کے شہر ریاض میں ایک اور مالک کو فروخت کردیا گیا، جہاں انھیں تشدد اور ریپ کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔وزیر مملکت کے مطابق بازیاب کرائی گئی خاتون کا ریاست گجرات کے ایک ہسپتال میں علاج جاری ہے۔انسانی اسمگلنگ کے خلاف کام کرنے والے ایک سماجی کارکن کے مطابق خلیجی ممالک کے لیے بھارت کی جنوبی ریاستوں آندھرا پردیش، تلنگانہ، تامل ناڈو اور کیرالہ سے لوگوں کی زیادہ تر اسمگلنگ کی جاتی ہے جب کہ دیگر ریاستوں سے ایسے کیسز شاذ و نادر ہی سامنے آتے ہیں۔ریاست گجرات کے وزیر تعلیم بھپندرا سنھ چاداسمہ کے مطابق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ خلیجی ممالک کے لیے زیادہ تر بھارت کی جنوبی ریاستوں سے انسانی اسمگلنگ کی جاتی ہے، مگر ہم گجرات میں اس کام میں ملوث دیگر افراد کی تلاش کر رہے ہیں اور پولیس نے ایجنٹس کے خلاف کریک ڈان شروع کردیا ہے۔بازیاب کرائی گئی خاتون کا تعلق ریاست گجرات کے ضلع ڈھولکا سے ہے، جہاں کی انتظامیہ خواتین کی اسمگلنگ کے حوالے سے مزید تفتیش کر رہی ہے۔ڈھولکا

کے ضلعی دفتر کے ڈپٹی آفیسر رتو راج دیسائی کے مطابق انہیں پتہ چلا ہے کہ مزید کئی خواتین کو بھی خلیج ممالک میں اسمگلنگ کے بعد فروخت کیا گیا ہے، یہ ان کیلئے نئی معلومات ہے۔خیال رہے کہ جنسی کاروبار کے لیے فروخت کی گئی ریاست گجرات کی یہ دوسری خاتون ہیں، جنھیں حکومت نے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں بازیاب کروایا ہے۔سماجی کارکنان کے مطابق اندازا 60 لاکھ بھارتی افراد خلیجی ممالک بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور عمان میں گھریلو ملازمین ہیں، جن میں سے زیادہ تر افراد کو استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…