بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

ترکی سے کشیدگی،ہالینڈ میں ہنگامے پھوٹ پڑے

datetime 12  مارچ‬‮  2017 |

انقرہ / ایمسٹر ڈیم(آئی این پی) ترک وزیر خارجہ کو ہالینڈ میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینے پر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کشیدہ ہو گئے ، نیدرلینڈ میں ترک شہریوں نے احتجاج کیا جب کہ انقرہ میں ڈچ ایمبیسی سیل کر دی گئی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترکی اور ہالینڈ کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ترک وزیر خارجہ عوامی اجتماع سے خطاب کیلئے ہالینڈ پہنچے تو ان کے طیارے کو روٹر ڈیم میں لینڈنگ

کی اجازت نہ ملی جس پر ترک شہری مشتعل ہو گئے اور انہوں نے روٹر ڈیم سمیت ہالینڈ کے مختلف شہروں میں شدید احتجاج کیا۔ پولیس اور مظاہرینکے درمیان جھرپیں بھی ہوئیں اور پولیس نے ترکی کے جھنڈے اٹھائے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے واٹر کینن اور لاٹھی چارج کا سہارا لیا جس سے متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ترک وزیر خارجہ کو روٹر ڈیم میں داخل ہونے سے روکنے پر ترک صدر طیب اردوان نے سخت رد عمل دیتے ہوئے ہالینڈ کی حکومت کو نازیوں کی باقیات قرار دیا جس کے بعد انقرہ میں ہالینڈ کے سفارتخانے کو سیل کر دیا۔اس سے پہلے ترکی کی وزیر برائے سوشل پالیسیز کو بھی ہالینڈ میں عوامی اجتماع سے خطاب نہیں کرنے دیا گیا تھا، جس کے بعد انقرہ میں ہالینڈ کے سفارتخانے کو سیل کر دیا۔اس سے پہلے ترکی کی وزیر برائے سوشل پالیسیز کو بھی ہالینڈ میں عوامی اجتماع سے خطاب نہیں کرنے دیا گیا تھا،فاطمہ کایا نے آئندہ ماہ ترکی میں ہونے والے ریفرنڈم کے حوالے سے تقاریب میں شرکت کرنا تھی تاہم ڈچ پولیس نے انہیں ملک بدر کر دیا تھا۔واضح رہے کہ ترک وزیرخارجہ کوہالینڈ کےشہرروٹرڈیم میں ریلی سےخطاب کرناتھا۔ ہالینڈ کی حکومت نے ترک وزیرخارجہ کےطیارے کی لینڈنگ کی اجازت واپس لےلی۔ترک صدر نے کہا ہے اب دیکھتےہیں ہالینڈ کےطیارےکیسےترکی میں اتریں گے، ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا اجازت نہ دینےوالےفاشسٹ اورنازیوں کی باقیات ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…