بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں دو پاکستانی پولیس تشدد سے ہلاک،بوریوں میں ڈال کر کیا ،کیاجاتارہا؟لرزہ خیزانکشاف

datetime 1  مارچ‬‮  2017 |

ریاض(مانٹرنگ ڈیسک)سعود عرب کے دارالحکومت ریاض میں پولیس نے تشدد کرکے 2پاکستانی خواجہ سرائوں کوہلاک کردیاہے ۔ایک غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی پولیس نے خفیہ اطلاع پرشہرکے ایک ریسٹ ہائوس پرچھاپہ ماراتواس وقت وہاں پرخواجہ سرائوں کاایک اجلاس ہورہاتھا۔اس اجلاس میں ان کے ’’گرو‘‘کاانتخاب ہوناتھاجبکہ ان خواجہ سرائوں نے خواتین کے لباس پہنے ہوئے تھے ۔

پولیس نے اس اجلاس میں شریک35کے قریب خواجہ سرائوں کوگرفتارکرلیااورگرفتاری کی وجہ خواتین کے لباس تن زیب کرنابتاا گیاہے ۔ گرفتاری کے بعد سعود ی پولیس نے مبینہ طورپران خواجہ سرائوں کومختلف بوریوں میں بندکرکے تشدد کرناشروع کردیاجس کی وجہ سے 2خواجہ سرا ہلاک ہوگئے ۔ان ہلاک ہونے والے خواجہ سرائوںجن کےنام آمنہ اور مینوتھااوران کاتعلق پاکستان کے صوبے خیبرپختونخواسے شہروں سوات اورمینگورہ سے ہے جبکہ دیگر گرفتار خواجہ سرائوں کاتعلق بھی پاکستان کے مختلف شہروں سے بتایاجارہاہے ۔سعودی پولیس کے ترجمان نے 35خواجہ سرائوں کی گرفتاری کی تصدیق کردی ہے ۔ترجمان کاکہناہےکہ فیلڈ کنٹرول مینجمنٹ ان خواجہ سراؤں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے جبکہ ان خواجہ سرائوں کی گرفتاری کے بعد ریسٹ ہاؤس سے خواتین کے لباس اور زیورات بھی برآمد کئے گئے ہیں ۔خواجہ سرائوں کے تشددسے ہلاکت پران کی نمائندہ تنظیم کے کارکن قمرنسیم نے ان ہلاکتوں کی پرزورمذمت کی ہے اورکہاہے کہ بوریوں میں بندکرکے تشدد کرناایک غیرانسانی سلوک ہے ۔قم نسیم نے مزید بتایاکہ گرفتارہونے والے 11خواجہ سرائوں کوڈیڑھ لاکھ ریال جرمانے کے بعد رہاکردیاگیاہے جبکہ ابھی تک 22خواجہ سراپولیس کی حراست میں ہیں ۔اس کاکہنا ہےکہ سعودی حکومت کواس واقعہ کانوٹس لیناچاہیے ۔

یاردرہے کہ سعودی عرب کے قوانین کے تحت خواجہ سرائوں کےلئے خواتین کالباس استعمال کرناجرم ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…