بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی پولیس کے ہاتھوں غیر مسلح اماراتی طالب علم کے قتل کی تصدیق

datetime 19  فروری‬‮  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی)امریکی حکام نے گزشتہ سال پولیس کے ہاتھوں غیر مسلح اماراتی طالب علم کے قتل کی تصدیق کردی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا کی ریاست اوہائیو میں پولیس نے 4 دسمبر 2016 کو ایک غیر مسلح اماراتی طالب عالم کو گولی مار کر قتل کردیا تھا۔ریاست کے اٹارنی جنرل کے مطابق اس امر کی اب تصدیق ہوگئی ہے۔چھبیس سالہ اماراتی طالب علم سیف ناصر مبارک الامیری اوہائیو میں کیس ویسٹرن ریزرو

یونیورسٹی میں قانون کی اعلی تعلیم حاصل کررہا تھا۔ اوہائیو کے اٹارنی جنرل کے دفتر نے واشنگٹن ڈی سی میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کو اطلاع دی ہے کہ مقتول طالب عالم واقعے کے وقت غیر مسلح تھا۔اٹارنی جنرل کا دفتر اس واقعے کی تحقیقات کررہا ہے۔اماراتی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ خارجہ امور اور بین الاقوامی تعاون کی وزارت کے ساتھ مل کر تحقیقات کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ اماراتی سفارت خانے کے نمائندے فوجداری تفتیش جرائم کے محکمے اور اوہائیو کے اٹارنی جنرل کے دفتر کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور وہ اس واقعے کی بروقت، شفاف اور جامع تحقیقات پر زور دے رہے ہیں۔اوہائیو کے اٹارنی جنرل کے دفتر نے بتایا ہے کہ اس افسوس ناک واقعے کی تحقیقات ابھی جاری ہے۔البتہ اس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جب ہڈسن ،اوہائیو کے ایک پولیس افسر نے جب سیف کے جسم میں متعدد گولیاں پیوست کی تھیں تو اس وقت وہ غیر مسلح تھا۔اس واقعے کے بعد کیس ویسٹرن یونیورسٹی کی کمیونٹی نے مقتول سیف کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور ہم ان کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ سفارت خانے نے کہا ہے کہ ” اماراتی نماءں دے مقتول الامیری کے خاندان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ہم اس خاندان کی ہر ممکن طریقے سے مدد کریں گے۔واقعے کی تحقیقات کو مانیٹر کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔مقتول کے والد ناصر الامیری نے واقعے کے چند روز بعد العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے بیٹے کو پراسرار انداز میں قتل کیا گیا تھا۔وہ ان کے سات بیٹوں میں سے سب سے بڑا تھا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…