پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

کونسی خفیہ طاقتیں ہمارے ملک میں مصنوعی زلزلہ پیدا کر سکتی ہیں؟

datetime 9  فروری‬‮  2017 |

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک)ترک دارالحکومت انقرہ کے میئر نے خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی طاقتیں ترکی میں مصنوعی زلزلے کے لیے انتہائی جدید ٹیکنالوجی استعمال کر سکتی ہیں تاکہ ترک معیشت کو نقصان پہنچایا جائے۔میڈیارپورٹس کے مطابق میلِش کوکچیک 1994ءسے ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے میئر چلے آ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں کیا۔کوکچیک ٹوئیٹر پر اپنے

3.7 ملین فالوورز کو بلاناغہ اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں۔انقرہ کے میئر کی طرف سے یہ دعوٰی ملک کے مغربی صوبہ چنّاکالے میں آنے والے دو زلزلوں کے بعد سامنے آیا۔ ترکی کی ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ان زلزلوں کی شدت 5.3 اور 5.2 تھی۔کوکچیک نے اپنی ٹوئیٹس میں ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ ایسے آلات دستیاب ہیں جن کی مدد سے مصنوعی زلزلہ لایا جا سکتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسی تمام آبدوزوں اور بحری جہازوں کو قبضے میں لے لیا جائے جن پر بڑے بڑے آلات نصب ہیں۔مانقرہ کے میئر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے ان دو زلزلوں کے بارے میں تحقیق کی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان زلزلوں کے پیچھے ممکنہ طور پر غیر ملکی ہاتھ کارفرما ہو سکتا ہے۔ انہوں نے لکھاکہ قریب ہی ایک بحری جہاز زلزلے سے متعلق تحقیق میں مصروف تھا۔یہ جہاز کیا تحقیق کر رہا تھا اور اس کا تعلق کون سے ملک سے ہے، یہ معمہ حل ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کا اصل مقصد استنبول کے قریب ایک زلزلہ لانا تھا تاکہ حکومت کے خلاف معاشی ”بغاوت“ پیدا کی جائے،اس لمحے ترکی کے خلاف بغاوت استنبول کے قریب ایک زلزلہ ہے تاکہ ترکی کو معاشی طور پر ڈھیر کیا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…