اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

پاکستان کے اہم سٹیڈیم کو جنید جمشید کے نام سے منسوب کر دیا گیا

datetime 7  فروری‬‮  2017 |

لاہور ( این این آئی)یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے سپورٹس کمپلیکس اور سٹیڈیم کو معروف دینی سکالر ، نعت خواں اور یونیورسٹی کے سابق طالب علم جنید جمشید مرحوم کے نام سے منسوب کر دیا گیا ۔ وزیر برائے سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر خواجہ سلمان رفیق نے تختی کی نقاب کشائی کی۔تقریب میں پر وائس چانسلر ڈاکٹر فضل احمد خالد، جنید جمشید کے بھائی ہمایوں جمشید ، تینوں صاحبزادے تیمور ، سیف اور بابر جنید ،

یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران اور مرحوم کے دیرینہ دوستوں نے بھی شرکت کی ۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ جنید جمشید ایک سچے پاکستانی تھے جنہوں نے دین کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔وزیر صحت کا کہنا تھا کہ جنید جمشید سٹیڈیم اور سپورٹس کمپلیکس میں جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ گراؤنڈ کو بہتر کیا جائے گا آسٹروٹرف اور فلڈ لائٹس بھی لگائی جائیں گی ۔انہوں نے وائس چانسلر کو اس حوالے سے فوری طور پر سکیم تیار کرنے کی ہدایت کی ۔ بعد ازاں یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں جنید جمشید مرحوم کی یاد میں تعزیتی اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق ، وائس چانسلر ، جنید جمشید کے بھائی ، صاحبزادوں اور دوستوں نے شرکت کی اور جنید جمشید کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور ان سے وابستہ خوشگوار یادوں کے حوالے سے تاثرات بیان کئے ۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ جنید جمشید انتہائی نیک اور انسان دوست انسان تھے جنہوں نے ہمے حقوق العباد اور حقوق اللہ کا خیال رکھا اور نوجوان نسل میں دین کی طرف رغبت پیدا کرنے کے لئے دن رات محنت کی۔ خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ جو اللہ اور اس کی مخلوق کے حقوق کا خیال رکھنا ہے تاریخ میں ہمیشہ نام پیدا کرتا ہے اور آخرت میں بھی سرخرو ہوتا ہے ۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…