ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

مٹکے میں رکھ دیتا تھا

datetime 31  جنوری‬‮  2017 |

حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے حالات زندگی میں لکھا ہے کہ زمانہ طالب علمی میں جب دوران سال میرے عزیز و اقارب کے خطوط آتے تھے تو میں ڈر کے مارے وہ خط ہی نہیں پڑھتا تھا بلکہ ان کو مٹکے میں رکھ دیتا تھا‘ سوچتا تھا اگر کوئی خوشی کی خبر ہو گی تو گھر جانے کو دل کرے گا اور اگر کوئی غم کی خبر ہو گئی تو پڑھائی میں دل نہیں لگے گا جس کی وجہ سے میں علم سے محروم ہو جاؤں گا۔

میں وہ خطوط جمع کرتا رہتا تھا اور سال کے آخر میں شعبان کے شروع میں اپنے دارالعلوم کاامتحان دے کر فارغ ہو جاتا تو فارغ ہونے والے دن میں سارے خطوط نکالتا‘ انہیں پڑھتا اور ان کی فہرست بناتا‘ خوشی کی خبر والے خطوط کی علیحدہ فہرست بناتا‘ پھر میں اپنے گاؤں آتا‘ خوشی کی خبر والوں کو میں مبارک باد دیتا اور جن کو غم ملا ہوتا تھا ان کے سامنے تسلی و تشفی کے چند الفاظ کہہ دیتا تھا‘ اس طرح لوگ مجھ سے خوش ہو جاتے کہ اس نے سارا سال ہماری بات یاد رکھی لیکن ان کو کیا پتہ کہ ان کا حخط ہی اس وقت پڑھا ہوتا تھا تو جن حضرات نے دنیا میں عظمتیں پائیں انہوں نے علم حاصل کرنے یں ایسی یکسوئی دکھائی مگر آج کے طالب علم کو کتاب کے علاوہ خارجی باتوں کا سننے کا زیادہ شوق ہے۔ چنانچہ جب تکرار کرنے بیٹھتے ہیں تو دو باتیں سبق کی اور تین باتیں باہر کی کرتے ہیں حتیٰ کہ کتاب پڑھتے ہوئے ملکوں کے فیصلے ہو رہے ہوتے ہیں اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ شیطان ان کو علم سے محروم کرنا چاہتا ہے لہٰذا باتوں میں لگا دیتا ہے۔حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے حالات زندگی میں لکھا ہے کہ زمانہ طالب علمی میں جب دوران سال میرے عزیز و اقارب کے خطوط آتے تھے تو میں ڈر کے مارے وہ خط ہی نہیں پڑھتا تھا بلکہ ان کو مٹکے میں رکھ دیتا تھا‘ سوچتا تھا اگر کوئی خوشی کی خبر ہو گی تو گھر جانے کو دل کرے گا اور اگر کوئی غم کی خبر ہو گئی تو پڑھائی میں دل نہیں لگے گا جس کی وجہ سے میں علم سے محروم ہو جاؤں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…