ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

حجاج بن یوسف اور محمد بن قاسم

datetime 31  جنوری‬‮  2017 |

حضرت پیر مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی نے ایک تاریخی واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ محمد بن قاسم کی کیا عمر تھی‘ 17 سال آج سترہ سال کے بچے کو گھر کا سربراہ بنا دیں تو وہ گھر کو ٹھیک طرح سے چلا نہیں سکتا اور وہ سترہ سال کابچہ کمانڈر انچیف بنا ہوا ہے اور فوج کو لے کر جا رہا ہے کہاں؟ جہاں راجہ داہر کی منظم حکومت تھی۔ میں نے سندھ میں وہ میدان دیکھا جہاں راجہ داہر اور محمد بن قاسم کی لڑائی ہوئی تھی‘

میں اس کی وسعتوں کو دیکھ کر حیران ہو رہا تھا اس وقت میری عجیب کیفیت تھی‘ میں نے کہا کہ یہ نوجوان کہاں سے چلا اس کے ساتھ کوئی تربیت یافتہ فوج نہیں تھی‘ یہ بھی ایک حقیقت ہے بلکہ حجاج بن یوسف نے اسے بلا کر کہہ دیا کہ میری فوج مختلف محاذوں پر مصروف کار ہے مگر مجھے یہ بات پہنچائی گئی ہے کہ ہماری کچھ عورتیں آرہی تھیں راجہ داہر کے ڈاکوؤں نے قافلے کو لوٹ لیا ایک لڑکی نے کہا مجھے بچاؤ‘ مجھے بچاؤ‘ چنانچہ محمد بن قاسم نے Cornernee lingsکے نوجوانوں کو اکٹھا کیا‘ یہ پروفیشنل فوجی نہیں تھے‘ یہ ایمان و جذبہ کے گھوڑے پر سوار ہوئے‘ وہ نوجوان اکٹھے ہوئے اورانہوں نے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ چلتے ہیں‘ کتابوں میں لکھا ہے کہ محمدبن قاسم کے ذہن میں یہ بات اتنی سمائی ہوئی تھی کہ بیٹھے بیٹھے چونک اٹھتا تھا اور کہتا تھا ’’لبیک یا اختی‘ لبیک یا اختی‘‘ میری بہن میں حاضر ہوں‘ میری بہن میں حاضر ہوں‘ یہ چند نوجوانوں کی جاعت وہاں پہنچی اور راجہ داہر کی لوہے میں ڈوبی ہوئی فوج کے چھکے چھڑا دیئے پھر یہی نہیں کہ اس کو کنٹرول کر لیا بلکہ اس کو کنٹرول کر کے اپنی سیکنڈ لائن کے ہاتھ میں اس کی کمان دے دی‘ خود آگے مارچ کر لیا‘ خود کنٹرول کرنا کچھ اور چیز ہوتی ہے مگر اتنی خود اعتمادی ہونا کہ اس کو سیکنڈ لائن کے حوالے کر دیا او رپھر آگے چلتے چلتے سندھ سے لے کر ملتان تک اسلام کا پرچم لہراتا رہا۔

آج ہمارے نوجوانوں کے اندر اگر یہ شوق ترقی کر جائے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمای طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی‘ آج اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم محنت کو اپنائیں لیکن تن آسانی کی زندگی کامیاب زندگی نہیں ہے کامیاب زندگی ہمیشہ محنت‘ لگن اور مجاہدے کی زندگی ہوا کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…