ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

تلاش کیا

datetime 19  جنوری‬‮  2017 |

وہ بہت غریب سا آدمی تھا کام کی تلاش میں اکثر شہر کے دفتروں والے علاقے میں پھرتا رہتا تھا وہ دیکھتا تھا کہ دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین دن کے اوقات میں کھانا کھانے کے وقفے کے دوران جلدی جلدی دفاتر سےنکلتے تھے اپنے ٹفن باکس کھولتے کسی ریسٹورنٹ کسی کھلی جگہ پر بیٹھ کر کھانا کھاتے اور پھر واپس اپنی اونچی عمارتوں کے دفاتر کی طرف دوڑتے چلے جاتے وہ ان سینکڑوں ،ہزاروں ٹفن برداروں کو دیکھتا تھا ۔

دن اسے ایک بات سوجی اس نے اپنے گھر پر بن کباب بنائے اور بن کباب بھی کیا بس ایک بن لیا اس کو کاٹ کر اس کے اندر گوشت کا ٹکڑا رکھا تھوڑی سی چٹنی اور مصالہ ڈالا اسے گرم کیا اور اپنی پرانی سی سائیکل پر رکھ کر دن کے کھانے کے وقفے میں دفاتر کے باہر آ کر کھٹرا ہو گیا اس کے دل میں بھی خدشات تھے ،ناکامی کا خوف تھا نہ جانے کوئی اس کے کھانے کو پسند کرے گا یا نہیں ؟کہیں اس غریبی میں اور آٹا نہ گیلا ہوجائے اور میرے پاس جو تھوڑے بہت پیسے ہیں وہ بھی نہ چلے جائیں؟۔مگر اسےبہت حیرت اور خوشی ہوئی ہے کہ دفاتر کے ملازمت پیشہ لوگوں نے اس سے برگر خرید کر کھائے اور اس سہولت کی فراہمی پر خوش بھی ہوئے اور پوچھا بھائی تم کل بھی آو گے ؟ یہ ہمارا تو کام آسان ہوگیا روز ٹفن اٹھا کر بھاگنا پڑتا تھا۔
اب وہ روز برگر بناکر لاتا اور اس کے برگر ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوجاتے وہ مسلسل سوچتا رہتا کہ ان کو مزید مزیدار اچھا اور لوگوں کی ضرورت کے مطابق بنایا جائے اس کاکام بڑھتا پھیلتا اور پھولتا چلا گیا پھر اس نے ایک دکان بنا لی پھر دوسری ،تیسری اور چوتھی دکان تک پہنچا اور آج اس کی اولاد برگر کی سب سے بڑی چین کی مالک ہےاور دنیا اسے”میکڈونلڈ “کے نام سے جانتی ہےآپ کے خیا ل میں اس شخص نے کیا کیا تھا؟؟؟۔

اس نے—- ایک نیڈ گیپ (Need Gap)تلاش کیا —-اس نیڈ گیپ کے مطابق چیز تیار کی
اس کے معیار کا خیال رکھا—– اسے ٹھیک جگہ لے کر پہنچااس میں مسلسل بہتری کے آئیڈیاز سوچتا رہا—- اپنا رویہ دوستانہ رکھا—– ہمت ہارے بغیر مسلسل کوشش کرتا رہا اور بلآخر وہ کامیاب ہوگیا
اس نے اپناہدف حاصل کرلیا ،پھر آخر یہ کیوں ضروری ہے کہ ہر شخص اپنا پہیہ دوبارہ ایجاد کرنے کی کوشش کرے؟ جن بھی لوگوں نے کوئی کامیاب کام کرنا ہے وہ اس شخص یا اس جیسے دوسرے لوگوں سے ہی کیوں نہ سیکھ لیں؟کیا خیال ہے؟‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…