اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

راہداری منصوبہ کی تکمیل سے کس کو زیادہ فائدہ ہوگا، پاکستان یا پھر چین کو؟ماہرین نے نئے سوال اُٹھادیئے

datetime 18  دسمبر‬‮  2016 |

کراچی (این این آئی) پاکستان اور چین کے اشتراک سے زیر تکمیل راہداری منصوبہ ہمارے لئے اسی صورت میں سودمند ہوسکتا ہے جب ہم اس کی تکمیل سے قبل اس کی تمام تفصیلات جن میں محاصل کی وصولیابی،صنعتی زونز کا قیام،بجلی کی پیداوار کے منصوبے اور مقامی لوگوں کو روزگار کی فراہمی کے معاملات چین کے ساتھ بات چیت کرکے طے کرلیں اور یہ بات دونوں ملکوں کے مفاد میں بھی ہوگی ۔

یہ بات گزشتہ روز محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی کے زیر اہتمام بزنس اینڈ مینجمنٹ کے موضوع پر منعقد ہونے والی دوسری تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے دوسرے روزماہرین کے ایک پینل کی راہدری منصوبے پر منعقد ہونے والے اوپن اجلاس کے دوران کہی گئی۔ماجو کی بزنس ایڈمنسٹریشن فیکلٹی کے ایسو سی ایٹ ڈین ڈاکٹر شجاعت مبارک نے اس سیشن کی میزبانی کی جبکہ حبیب میٹرو پولیٹن بنک کے سی ای اوسراج الدین عزیزمہمان خصوصی تھے۔ ملک کی ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے جن دیگر ماہرین نے اس اجلاس میں حصہ لیا ان میں ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، علی احمد، انور کاشف اور کرنل جعفری شامل تھے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ راہداری منصوبہ مستقبل میں پاکستان کے لئے ایک بہت بڑا گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے اس کے لئے ہمیں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے اور یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم مستقبل میں اس سے فائیدہ اٹھانے کے لئے تیار ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس منصوبہ کی تکمیل پر کس کو زیادہ فائیدہ ہوگا ،پاکستان کو یا پھر چین کو؟ان ماہرین کا خیال تھا کہ اس منصوبہ پر کام جاری رکھنے کے دوران اگر ہم اپنے مفادات کا پوری طرح خیال رکھتے رہے اور پوری قوم کو اعتماد میں لیا جاتا رہا توپھر ہم راہداری منصوبے سے زیادہ سے زیادہ فائیدہ اٹھا سکتے ہیں۔ماہرین نے کا کہنا تھا کہ کہ یہ ایک طویل مدت منصوبہ ہے جس کی تکمیل کا فائیدہ نئی نسل کو پہنچے گاجن کو کاروبار کرنے اور ملازمتوں کے بہتر مواقع حاصل ہونگے۔ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس منصوبہ سے متعلق تمام پراجیکٹس کے کام اوپن ٹینڈر کے ذریعے انتہائی شفاف طریقے سے جاری کئے جائیں تاکہ کسی کو کوئی شکایت نہ ہوسکے۔بعض ماہرین نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک مقامی افراد کو راہداری منصوبہ پر کام کے دوران روزگار کے خاطر خواہ فوئید حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں گوادر کی بندرگاہ سے چین کا جو کارگو شپ گیا ہے اس میں ٹرک ڈرائیورز،لیبر اور دیگر عملہ سب چینی لوگوں پر مشتمل تھا اگر یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہا تو اس سے مقامی لوگوں کے احساس محرومی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…